ٹوکیو: جاپان میں غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کے خلاف ایک نئی حکومتی اسکیم نے شدید تنازع کو جنم دے دیا ہے، جس کے تحت شہریوں کو غیر قانونی ملا...
ٹوکیو: جاپان میں غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کے خلاف ایک نئی حکومتی اسکیم نے شدید تنازع کو جنم دے دیا ہے، جس کے تحت شہریوں کو غیر قانونی ملازمین یا انہیں ملازمت دینے والے اداروں کی اطلاع دینے پر مالی انعام دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اسکیم اباراکی پریفیکچر میں مالی سال 2026 کے دوران متعارف کرائی جائے گی، جہاں حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں سے غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کی سب سے زیادہ تعداد رپورٹ ہو رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت کسی مستند اطلاع کی بنیاد پر اگر گرفتاری عمل میں آتی ہے تو اطلاع دینے والے فرد کو تقریباً 10,000 ین (تقریباً 80 امریکی ڈالر) تک انعام دیا جائے گا۔
اس حوالے سے صوبے کے گورنر کازوہیکو اوئیگاوا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ ہے، نہ کہ غیر ملکی شہریوں کے خلاف امتیازی سلوک۔ انہوں نے کہا کہ “یہ اقدام غیر ملکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ضروری ہے جہاں غیر قانونی ملازمت کو برداشت نہ کیا جائے تاکہ قانونی طور پر کام کرنے والے غیر ملکی افراد کو بھی تحفظ مل سکے۔”
تاہم اس اسکیم پر مختلف سماجی و قانونی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پالیسی معاشرے میں بداعتمادی کو فروغ دے سکتی ہے اور شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف مخبری پر اکسا سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدام غیر ملکی کارکنوں کے خلاف تعصب اور امتیازی رویوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہوگی۔
کویودو نیوز کے مطابق متعدد شہری تنظیموں، جن میں غیر ملکیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپس بھی شامل ہیں، نے حکومت سے اس منصوبے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک مقامی بار ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اسکیم شہریوں کو غیر ملکیوں کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کرے گی اور غیر منصفانہ تعصبات کو تقویت دے گی۔
اسی طرح جنوبی اباراکی میں واقع حراستی مرکز کے قریب کام کرنے والی ایک شہری تنظیم نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے غیر ملکی کمیونٹی کو سماجی طور پر الگ تھلگ کرنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پالیسی نہ صرف انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر جاپان کے امیج کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف یہ ہے کہ غیر قانونی ملازمتیں معیشت اور لیبر مارکیٹ پر منفی اثر ڈالتی ہیں، اس لیے ان کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ جاپان کو بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور لیبر کی کمی کا سامنا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ غیر قانونی سرگرمیوں کو نظرانداز کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق جاپان اس وقت ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں ایک طرف اسے معیشت کو چلانے کے لیے غیر ملکی افرادی قوت کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری جانب امیگریشن قوانین کی سختی کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی پالیسیاں اکثر تنازع کا باعث بنتی ہیں۔

COMMENTS