کوالالمپور: محکمہ فلاح و بہبود (جے کے ایم) نے یونیورسٹی ملایا کے اشتراک سے آٹزم سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا...
کوالالمپور: محکمہ فلاح و بہبود (جے کے ایم) نے یونیورسٹی ملایا کے اشتراک سے آٹزم سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا، جس میں بچوں کی نگہداشت کے لیے "مانجا" ماڈیول بھی متعارف کرایا گیا۔ یہ پروگرام فیکلٹی آف ایجوکیشن، یونیورسٹی ملایا کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔
حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد معاشرے میں آٹزم کے حوالے سے شعور اور سمجھ بوجھ کو فروغ دینا ہے، جبکہ والدین اور سرپرستوں کو ایسے بچوں کی بہتر نگہداشت کے لیے ضروری معلومات اور رہنمائی فراہم کرنا بھی اس کا حصہ ہے۔
محکمہ فلاح و بہبود کے ڈائریکٹر جنرل داتوک چی مراد سایانگ رمجان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اقدام والدین اور نگہداشت کرنے والوں کو بااختیار بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ آٹزم کے شکار بچوں کی نشوونما میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگرامز سے نہ صرف معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ خاندانوں کو عملی معاونت بھی ملتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 31 مارچ 2026 تک ملک میں رجسٹرڈ افرادِ معذوری (او کے یو) کی تعداد 833,425 ہے، جن میں سے 88,934 افراد آٹزم کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس شعبے میں مزید آگاہی اور معاونت کی ضرورت موجود ہے۔
اس موقع پر یونیورسٹی ملایا کی تحقیق پر مبنی "مانجا" ماڈیول بھی پیش کیا گیا، جو پیدائش سے لے کر چھ سال تک کے آٹزم کے شکار بچوں کی نگہداشت اور تربیت کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ماڈیول والدین اور اساتذہ کے لیے ایک عملی گائیڈ کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔
تقریب میں مختلف اعلیٰ حکام اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی، جن میں فیکلٹی آف ایجوکیشن کے ڈین، محکمہ معذور افراد کی ترقی کے ڈائریکٹر، اور دیگر متعلقہ افسران شامل تھے۔ اس موقع پر ماہرین نے آٹزم سے متعلق چیلنجز اور ممکنہ حل پر بھی گفتگو کی۔
محکمہ فلاح و بہبود نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ آٹزم کے شکار افراد اور ان کے خاندانوں کو بہتر سہولیات اور معاونت فراہم کی جا سکے۔

COMMENTS