محکمہ امیگریشن ملائشیا (جے آئی اے) جوہر نے ایک بڑے کریک ڈاؤن کے دوران 35 غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا، جو مبینہ طور پر مختلف ک...
محکمہ امیگریشن ملائشیا (جے آئی اے) جوہر نے ایک بڑے کریک ڈاؤن کے دوران 35 غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا، جو مبینہ طور پر مختلف کاروباری مقامات پر بغیر قانونی دستاویزات کے کام کر رہے تھے۔
حکام کے مطابق، یہ کارروائی جوہر کے علاقے سینائی میں کی گئی، جہاں متعدد کاروباری مراکز کو ہدف بنایا گیا۔ آپریشن میں مختلف کارروائیوں جیسے "آپ سیلیرا"، "آپ کیوتپ"، "آپ بلانجا" اور "آپ ساپو" شامل تھیں، جن کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم اور کام کرنے والے افراد کے خلاف سخت اقدامات کرنا تھا۔
جوہر امیگریشن کے ڈائریکٹر، محمد رسدی محمد داروس نے بتایا کہ اس آپریشن میں ایجنسی کوالان دان پرلندوگان سمپادان (اے کے پی ایس) نے بھی تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران مختلف کاروباری اداروں، بشمول کریانہ اسٹورز، قالین کی دکانوں اور کھانے پینے کے مراکز کی تلاشی لی گئی، جہاں غیر ملکی افراد کے بغیر دستاویزات کام کرنے یا جمع ہونے کی اطلاعات تھیں۔
گرفتار کیے گئے افراد میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں، جن کا تعلق انڈونیشیا، میانمار، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے بتایا گیا ہے۔ ان افراد کی عمریں 19 سے 52 سال کے درمیان ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ افراد یا تو ان مقامات پر کام کر رہے تھے یا بطور گاہک موجود تھے، تاہم وہ قانونی سفری دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے۔
حکام نے واضح کیا کہ تمام گرفتار افراد کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہیں مزید تفتیش کے لیے ڈپو امیگریشن سیتیا ٹروپیکا منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے کیسز کی چھان بین جاری ہے۔
ڈائریکٹر محمد رسدی نے کہا کہ یہ کارروائیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جاری رکھی جائیں گی کہ ملک کے امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نہ صرف غیر قانونی تارکین وطن بلکہ ایسے آجر (کمپنی) بھی قانون کی گرفت میں آئیں گے جو انہیں پناہ دیتے یا ملازمت فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی فراہم کردہ معلومات ان کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ “عوام کی جانب سے دی گئی معلومات کی بدولت ہم زیادہ مؤثر انداز میں کارروائی کر سکتے ہیں، اس لیے شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔”
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد نہ صرف امیگریشن قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے بلکہ قومی سلامتی اور مقامی لیبر مارکیٹ کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق، غیر قانونی ملازمتوں کا مسئلہ نہ صرف اقتصادی چیلنجز پیدا کرتا ہے بلکہ اس سے سماجی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ اسی لیے حکومت نے سخت اقدامات کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

COMMENTS