الور سیتار: ملائیشیا کے صوبہ کداح میں انسدادِ بدعنوانی ادارے نے ایک پولیس افسر کو رشوت کے الزام میں گرفتار کر لیا، جس پر مبینہ طور پر ٹریفک ...
الور سیتار: ملائیشیا کے صوبہ کداح میں انسدادِ بدعنوانی ادارے نے ایک پولیس افسر کو رشوت کے الزام میں گرفتار کر لیا، جس پر مبینہ طور پر ٹریفک کیس میں ملوث ایک فرد کے خلاف چارج تبدیل کرنے کے بدلے رقم طلب کرنے اور وصول کرنے کا الزام ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن کداح نے 30 سالہ پولیس افسر کو حراست میں لیا، جس کے بعد مجسٹریٹ فاتن دلیلہ خالد نے اسے چار روزہ ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم جاری کیا۔ یہ ریمانڈ تحقیقات مکمل کرنے کے لیے دیا گیا ہے، جو کہ ایس پی آر ایم ایکٹ 2009 کی دفعہ 16(اے)(بی) کے تحت جاری ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزم پر الزام ہے کہ اس نے ایک شہری سے ٹریفک کیس میں عائد کیے گئے الزامات کو تبدیل کرنے کے بدلے مجموعی طور پر 20,000 رنگٹ رشوت طلب کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے دسمبر میں 2,000 رنگٹ وصول کیے تھے، جبکہ باقی رقم کی طلب جاری رکھی گئی۔
ذرائع کے مطابق، مشتبہ پولیس افسر کو گزشتہ روز سنگائی پیتانی کے علاقے میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ مبینہ طور پر باقی رقم حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کارروائی کو ایک منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا، جس میں شواہد اکٹھے کرنے کے بعد فوری گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
ایس پی آر ایم حکام کا کہنا ہے کہ یہ کیس نہ صرف ایک فرد کی بدعنوانی کا معاملہ ہے بلکہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شفافیت اور احتساب کے نظام کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ادارے کے مطابق، کسی بھی سرکاری اہلکار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا، اور بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق، ایس پی آر ایم ایکٹ 2009 کی دفعہ 16(اے)(بی) کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو قید اور جرمانے دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اس قانون کا مقصد سرکاری ملازمین میں بدعنوانی کا خاتمہ اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔
پس منظر کے طور پر، ملائیشیا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران انسداد بدعنوانی کے اقدامات میں تیزی آئی ہے، جہاں مختلف سرکاری اداروں کے اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ایس پی آر ایم کی جانب سے جاری مسلسل کریک ڈاؤن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رشوت ستانی یا بدعنوانی کے کسی بھی واقعے کی فوری اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شفاف اور منصفانہ نظام کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

COMMENTS