امپانگ: وزارت تجارتِ داخلی و صارفین (کے پی ڈی این) کی کاجنگ برانچ نے امپانگ میں ایک کاروباری مرکز پر چھاپہ مار کر مبینہ طور پر کاپی رائٹ قوا...
امپانگ: وزارت تجارتِ داخلی و صارفین (کے پی ڈی این) کی کاجنگ برانچ نے امپانگ میں ایک کاروباری مرکز پر چھاپہ مار کر مبینہ طور پر کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی میں استعمال ہونے والا غیر قانونی (پائریٹڈ) سافٹ ویئر برآمد کر لیا۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع اور نگرانی کے بعد عمل میں لائی گئی، جس میں ایک ایسے کاروباری ادارے کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر بغیر لائسنس سافٹ ویئر کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران 18 غیر قانونی سافٹ ویئر کاپیاں استعمال میں ہونے کا انکشاف ہوا، جو کاپی رائٹ قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔
چھاپے کے دوران موقع پر ہی کاپی رائٹ ہولڈر کے نمائندے نے بھی تصدیق کی کہ مذکورہ سافٹ ویئر غیر قانونی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس کے بعد حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کئی الیکٹرانک آلات ضبط کر لیے، جن میں کمپیوٹر سیٹس اور لیپ ٹاپ شامل ہیں۔ ضبط شدہ سامان کی مجموعی مالیت تقریباً 13 ہزار رنگٹ بتائی گئی ہے۔
کے پی ڈی این حکام کے مطابق یہ کارروائی ملک میں دانشورانہ املاک کے حقوق کے تحفظ اور غیر قانونی سافٹ ویئر کے استعمال کے خاتمے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ کاروباری اداروں کو چاہیے کہ وہ صرف قانونی اور لائسنس یافتہ سافٹ ویئر ہی استعمال کریں تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ملائیشیا میں کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ایک سنگین جرم ہے، جس پر سخت سزائیں مقرر ہیں۔ اگر ملزمان پر جرم ثابت ہو جائے تو ہر غیر قانونی سافٹ ویئر کاپی پر 2 ہزار رنگٹ سے لے کر 20 ہزار رنگٹ تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید یا دونوں سزائیں بیک وقت بھی دی جا سکتی ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ برسوں میں ملائیشیا میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے ساتھ ساتھ سافٹ ویئر پائریسی کے خلاف کریک ڈاؤن میں بھی تیزی آئی ہے۔ حکومتی ادارے اور نجی شعبہ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دانشورانہ املاک کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے۔
مزید برآں، کے پی ڈی این نے کاروباری برادری کو خبردار کیا ہے کہ وہ قوانین کی خلاف ورزی سے گریز کریں، کیونکہ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتی ہیں بلکہ کاروبار کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

COMMENTS