کچنگ: ملائیشیا کی ریاست سراواک کے دارالحکومت کچنگ میں امیگریشن حکام نے دو روزہ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 31 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار ...
کچنگ: ملائیشیا کی ریاست سراواک کے دارالحکومت کچنگ میں امیگریشن حکام نے دو روزہ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 31 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی 6 اور 7 اپریل کے دوران مختلف مقامات پر کی گئی، جس میں شہر کے فوڈ پریمسز اور سیبویاو کے پام آئل باغات میں واقع مزدوروں کی رہائش گاہیں شامل تھیں۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق اس آپریشن میں مجموعی طور پر 23 امیگریشن افسران نے حصہ لیا۔ ابتدائی مرحلے میں کچنگ شہر کے مختلف کھانے پینے کے مراکز کو ہدف بنایا گیا، جہاں متعدد افراد کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی گئی۔
حکام کے مطابق اس ابتدائی کارروائی کے دوران 21 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جن پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا شبہ ہے۔ ان افراد کے پاس یا تو درست دستاویزات موجود نہیں تھیں یا وہ اپنے ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے۔
مزید برآں، رات کے وقت کارروائی کا دائرہ بڑھاتے ہوئے سیبویاو کے علاقے میں واقع نجی پام آئل باغات میں مزدوروں کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے گئے۔ اس مرحلے میں مزید افراد کو حراست میں لیا گیا، جس کے بعد مجموعی گرفتاریاں 31 تک پہنچ گئیں۔
حکام کے مطابق یہ چھاپے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے تھے، جن کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔
گرفتار کیے گئے تمام افراد کو مزید تفتیش کے لیے امیگریشن حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ ہر کیس کی الگ الگ بنیاد پر جانچ کی جائے گی تاکہ قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
محکمہ امیگریشن نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ملک میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی اور کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قوانین کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب حکام نے آجرین اور عوام کو بھی سختی سے متنبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی غیر ملکیوں کو ملازمت دینے یا پناہ دینے سے گریز کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں نہ صرف غیر ملکی بلکہ متعلقہ افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
مزید برآں، امیگریشن حکام نے اس بات پر زور دیا کہ تمام افراد، خصوصاً کاروباری مالکان، کو چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین کی قانونی حیثیت کی مکمل تصدیق کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملائیشیا میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مہم کو مزید تیز کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں غیر ملکی مزدوروں کی بڑی تعداد کام کر رہی ہے، جیسے کہ پام آئل کے باغات اور شہری تجارتی مراکز۔
حکام کے مطابق اس قسم کی کارروائیاں نہ صرف قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں بلکہ مقامی لیبر مارکیٹ کے تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

COMMENTS