لانگکاوی: سیاحتی جزیرے لانگکاوی میں امیگریشن حکام نے ایک بڑے آپریشن کے دوران 31 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا، جب کہ مجموعی طور پر...
لانگکاوی: سیاحتی جزیرے لانگکاوی میں امیگریشن حکام نے ایک بڑے آپریشن کے دوران 31 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا، جب کہ مجموعی طور پر 85 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق، یہ کارروائی ملائیشین امیگریشن ڈیپارٹمنٹ ریاست قداح کی جانب سے “اوپس ساپو” کے تحت 3 اپریل کو انجام دی گئی، جس میں امیگریشن کی خصوصی ایکشن یونٹ نے حصہ لیا۔ آپریشن کے دوران جزیرے کے مختلف 9 مقامات پر چھاپے مارے گئے، جہاں مقامی اور غیر ملکی افراد کی دستاویزات کی جانچ کی گئی۔
حکام کے مطابق، مجموعی طور پر 85 افراد کو چیک کیا گیا، جن میں سے 31 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار شدگان میں 30 مرد اور ایک خاتون شامل ہیں، جن کا تعلق میانمار، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا سے بتایا گیا ہے۔ یہ تمام افراد امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت مختلف خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گئے۔
امیگریشن حکام نے بتایا کہ زیر حراست افراد کی عمریں 21 سے 48 سال کے درمیان ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، زیادہ تر کیسز میں درست سفری دستاویزات کی عدم موجودگی، ویزا کی مدت سے زائد قیام (اوور اسٹے) اور وزٹ پاس کا غلط استعمال شامل ہے، جو کہ ملائیشیا کے امیگریشن قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں تصور کی جاتی ہیں۔
آپریشن کے دوران تین افراد کو گواہ کے طور پر طلب کرنے کے لیے آئی ایم ایم 29 فارم بھی جاری کیے گئے، تاکہ مزید تفتیش میں مدد حاصل کی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام گرفتار افراد کو بیلانٹک امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ قداح کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ محکمہ مستقبل میں بھی اس طرح کے آپریشنز جاری رکھے گا تاکہ امیگریشن قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خاص طور پر سیاحتی علاقوں جیسے لانگ کاوی میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کو ترجیح قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “لانگکاوی جیسے اہم سیاحتی مقامات پر غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے ملک کی ساکھ اور سیکیورٹی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے ہم مسلسل نگرانی اور کارروائی جاری رکھیں گے۔”
ملائیشیا میں حالیہ عرصے کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا مقصد لیبر مارکیٹ کو منظم کرنا اور سیکیورٹی خدشات کو کم کرنا ہے۔ خاص طور پر سیاحتی علاقوں میں اس طرح کے آپریشنز کو اہم سمجھا جاتا ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے اور ملکی قوانین کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔
مزید برآں، حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت کارروائی کر سکیں۔ اس طرح کی عوامی شراکت داری کو ملکی سیکیورٹی کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

COMMENTS