کوالا ترنگانو: ریاست ترنگانو کے علاقے مرباؤ پاتہ میں ایک مقامی تاجر نے مہنگائی کے دور میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے منفرد اقدام کرتے ہوئے مر...
کوالا ترنگانو: ریاست ترنگانو کے علاقے مرباؤ پاتہ میں ایک مقامی تاجر نے مہنگائی کے دور میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے منفرد اقدام کرتے ہوئے مرغی کی قیمت محض 90 سینٹ فی عدد مقرر کر دی، جس کے نتیجے میں قلیل مدت کے اندر 2,500 مرغیاں فروخت ہو گئیں۔
اٹھاون سالہ تاجر محمد سہیمی حسن، جو گزشتہ 13 برس سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں، نے اس اقدام کو اپنے وفادار گاہکوں کے ساتھ اظہارِ تشکر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجات زندگی کے باعث عام شہری شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے انہوں نے یہ قدم اٹھایا تاکہ کچھ حد تک عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اس خصوصی سیل کے دوران انہیں کسی بھی قسم کا منافع حاصل نہیں ہوا، تاہم انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ وہ ضرورت مند افراد کے ساتھ اپنی کمائی کا حصہ بانٹنے میں کامیاب رہے۔ ان کے مطابق، “یہ صرف کاروبار نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہے۔”
مقامی افراد کی جانب سے اس اقدام کو بھرپور سراہا گیا اور بڑی تعداد میں لوگ اس رعایتی آفر سے فائدہ اٹھانے کے لیے جمع ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، فروخت کا عمل شروع ہوتے ہی رش بڑھ گیا اور چند ہی منٹوں میں تمام مرغیاں فروخت ہو گئیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کو اس طرح کی رعایتی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا سمیت خطے کے کئی ممالک میں خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کو زیادہ متاثر کیا ہے، جس کے باعث ایسے اقدامات نہ صرف وقتی ریلیف فراہم کرتے ہیں بلکہ سماجی یکجہتی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
محمد سہیمی حسن کے مطابق، ان کے کاروبار کی 13 شاخیں ترنگانو بھر میں قائم ہیں، اور وہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے فلاحی اقدامات جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ بھی مختلف اشیاء پر رعایت دے کر عوام کی مدد کی جائے گی۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات دیگر تاجروں کے لیے بھی مثال بن سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی عام آدمی کی قوتِ خرید کو متاثر کر رہی ہے۔ حکومتی سطح پر بھی عوامی ریلیف کے لیے مختلف اسکیمیں متعارف کرائی جا رہی ہیں، تاہم نجی سطح پر اس قسم کے اقدامات کا اپنا ایک اہم کردار ہے۔

COMMENTS