جوہر بہرو: ملائیشیا میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے ایک اہم کیس میں چار چینی شہریوں کو جعلی سفری دستاویزات کے استعمال کے الزام میں گرفتا...
جوہر بہرو: ملائیشیا میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے ایک اہم کیس میں چار چینی شہریوں کو جعلی سفری دستاویزات کے استعمال کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ کارروائی کے دوران مختلف ممالک کے 13 پاسپورٹس بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، جباتن امیگریشن ملائیشیا (جے آئی ایم) کی جوہر برانچ نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے جوہر بہرو کے علاقے بایو پوتیری میں واقع ایک لگژری اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا، جہاں سے تین مرد اور ایک خاتون سمیت چار چینی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر داتوک محمد رسدی محمد داروس نے بتایا کہ گرفتار افراد میں سے ایک مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر میکسیکو کا جعلی بین الاقوامی پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے ملائیشیا میں داخلہ حاصل کیا اور یہاں قیام پذیر رہا۔
انہوں نے کہا: “چھاپے کے دوران اہلکاروں نے مختلف ممالک کے 13 بین الاقوامی پاسپورٹس برآمد کیے، جن میں ہانگ کانگ، چین اور ویتنام کے پاسپورٹس شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاملہ ممکنہ طور پر ایک منظم نیٹ ورک سے جڑا ہو سکتا ہے۔”
حکام کے مطابق، تمام ملزمان کی عمریں 43 سے 57 سال کے درمیان ہیں اور ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وہ جوہر بہرو کے ایک گالف کلب کے قریب زیر تعمیر تفریحی مرکز میں کام کر رہے تھے۔
مزید برآں، چاروں افراد کو 14 روزہ ریمانڈ پر لے لیا گیا ہے تاکہ ان کے خلاف مزید تفتیش کی جا سکے۔ ان پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) اور 56(1)(1) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ پاسپورٹ ایکٹ 1966 کے تحت بھی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ڈائریکٹر امیگریشن نے مزید کہا کہ: “محکمہ امیگریشن ملائیشیا غیر قانونی تارکین وطن اور جعلی دستاویزات کے استعمال میں ملوث ایجنٹس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرے گا تاکہ ملک میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔”
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا میں امیگریشن قوانین کے نفاذ کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں مختلف ریاستوں میں متعدد آپریشنز کیے گئے ہیں، جن میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور جعلی دستاویزات استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق، جعلی پاسپورٹس اور دستاویزات کا استعمال نہ صرف ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی نیٹ ورکس کی موجودگی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اگر اس کے پیچھے کسی بڑے گروہ یا نیٹ ورک کا سراغ ملا تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔
مزید برآں، عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

COMMENTS