پیتالنگ جایا: ملائیشیا کی ڈیجیٹل وزارت نے اعلان کیا ہے کہ ملائیشیا ڈیجیٹل اکانومی کارپوریشن نے غیر ملکی ماہر کارکنوں کی درخواستوں کے بیک لاگ...
پیتالنگ جایا: ملائیشیا کی ڈیجیٹل وزارت نے اعلان کیا ہے کہ ملائیشیا ڈیجیٹل اکانومی کارپوریشن نے غیر ملکی ماہر کارکنوں کی درخواستوں کے بیک لاگ میں نمایاں کمی کر دی ہے اور 15 اپریل تک 3,600 سے زائد درخواستوں کو پراسیسنگ کے اگلے مرحلے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ پیش رفت 29 مارچ کو صنعتی اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کے بعد سامنے آئی، جن میں درخواستوں کے طریقہ کار اور پراسیسنگ کے وقت میں حالیہ تبدیلیوں پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق بیک لاگ کی بنیادی وجوہات میں ٹیکنالوجی سسٹمز کی محدود صلاحیت، جس کے باعث بعض مراحل میں دستی پراسیسنگ کی ضرورت پیش آتی ہے، افرادی قوت کی کمی، اور درخواستوں کی تعداد میں اچانک اضافہ شامل ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ان مسائل نے نہ صرف ایف کے ڈبلیو پروگرام بلکہ ڈی ای رانتاؤ نومیڈ پروگرام اور ملائیشیا ٹیک انٹرپرینیور پروگرام کو بھی متاثر کیا۔
وزارت کے مطابق بیک لاگ کم ہونے کے بعد اب باقی درخواستوں کی پراسیسنگ جاری ہے۔ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے متعدد عبوری اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں عملے کی ازسرنو تعیناتی، ورک فلو کی تنظیم نو، عارضی عملے کی بھرتی، اور اضافی وسائل کی فراہمی شامل ہے تاکہ کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں پراسیسنگ کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ رواں سال کی دوسری سہ ماہی تک یہ نظام مکمل طور پر مستحکم ہو جائے گا۔
مزید برآں، مستقبل میں ایسے مسائل سے بچنے کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کیا جا رہا ہے، جس میں ایف کے ڈبلیو، ڈی ای رانتاؤ نومیڈ اور ایم ٹی ای پی تینوں پروگرامز کو یکجا کیا جائے گا۔ اس پلیٹ فارم میں آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کو شامل کیا جائے گا تاکہ دستی کام پر انحصار کم ہو اور سروس کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔
وزارت کے مطابق ایف کے ڈبلیو درخواستوں کے نئے ماڈیول کا آغاز 2026 کی تیسری سہ ماہی میں متوقع ہے، جبکہ ڈی ای رانتاؤ نومیڈ اور ایم ٹی ای پی پروگرامز کو 2027 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک اس پلیٹ فارم میں شامل کر لیا جائے گا۔
پس منظر کے طور پر، ایف کے ڈبلیو پروگرام ایک خصوصی اقدام ہے جس کے تحت ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شعبوں میں غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے میں سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اسی طرح ڈی ای رانتاؤ نومیڈ پاس غیر ملکی ڈیجیٹل ماہرین کو ملائیشیا میں قیام اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، جبکہ ایم ٹی ای پی پروگرام کے ذریعے تجربہ کار ٹیک انٹرپرینیورز اور سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

COMMENTS