کوالالمپور: حکومت نے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی میں خلل کے باعث ملک میں ممکنہ سنگین بحران کے خدشے پر “کرائسز موڈ” نافذ کر دیا ہے، جبکہ ع...
کوالالمپور: حکومت نے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی میں خلل کے باعث ملک میں ممکنہ سنگین بحران کے خدشے پر “کرائسز موڈ” نافذ کر دیا ہے، جبکہ عوام کو ایندھن کے محتاط استعمال اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
ملائیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ انتھونی لوک نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال “انتہائی سنجیدہ” ہے اور اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران توانائی کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر جاری کشیدگی کا براہ راست نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ مذاق یا ہنسی کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے۔ اگرچہ اس وقت ملک میں بجلی اور پیٹرول کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے، لیکن ہمیں مستقبل کے خطرات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔”
رپورٹس کے مطابق، یہ بحران بنیادی طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث پیدا ہوا ہے، جہاں ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں جہاز رانی پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق، اس راستے کی بندش یا محدود دستیابی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے، جس کے اثرات ایشیائی ممالک سمیت دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اگرچہ ملائشیا خود یومیہ تقریباً 660,000 بیرل تیل اور 200 ملین مکعب میٹر گیس پیدا کرتا ہے، تاہم ملک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی منڈی پر بھی انحصار کرتا ہے۔ سرکاری کمپنی پیٹروناس کے مطابق، ملک کے پاس تقریباً 17 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے واضح کیا کہ موجودہ ایندھن سپلائی مئی تک متاثر ہونے کا امکان نہیں، تاہم اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو مستقبل میں فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
ملائیشیا کے پڑوسی ممالک تھائی لینڈ، ویتنام اور کمبوڈیا میں صورتحال پہلے ہی خراب ہو چکی ہے، جہاں متعدد پیٹرول پمپ بند ہو چکے ہیں اور باقی پر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔
اسی طرح فلپائن نے 24 مارچ کو باضابطہ طور پر توانائی ایمرجنسی نافذ کر دی، جس سے خطے میں بحران کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے بھی عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس صورتحال میں کسی قسم کی لاپرواہی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا، “ہمیں متحد، باحوصلہ اور نظم و ضبط کے ساتھ اس بحران کا مقابلہ کرنا ہوگا۔”
حکومت نے ایندھن کے استعمال میں کمی کے لیے کئی اقدامات بھی شروع کیے ہیں، جن میں پیٹرول سبسڈی کی حد کو 300 لیٹر سے کم کر کے 200 لیٹر ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال، کار پولنگ، اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔
انتھونی لوک نے مزید کہا کہ خوراک کا ضیاع بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، اور توانائی بحران کے تناظر میں وسائل کے ضیاع کو کم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو نہ صرف ایندھن بلکہ خوراک کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ٹرانسپورٹ اور سپلائی چین کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔
یہ صورتحال عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک پر جو توانائی درآمد کرتے ہیں۔

COMMENTS