جارج ٹاؤن: ملائیشیا کی ڈیجیٹل وزارت نے کہا ہے کہ غیر ملکی ماہر کارکنوں کی درخواستوں کے پراسیس میں درپیش مسائل کو جلد حل کر لیا جائے گا۔ حکام...
جارج ٹاؤن: ملائیشیا کی ڈیجیٹل وزارت نے کہا ہے کہ غیر ملکی ماہر کارکنوں کی درخواستوں کے پراسیس میں درپیش مسائل کو جلد حل کر لیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کا تفصیلی جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے اور حل کے اقدامات آخری مراحل میں ہیں۔
وزیر گوبند سنگھ دیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے کی نشاندہی تقریباً ایک ماہ قبل ہوئی تھی، جس کے بعد ملائیشیا ڈیجیٹل اکانومی کارپوریشن کی ٹیم نے تمام شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ان کے مطابق مختلف صنعتوں کے نمائندوں سے بھی مشاورت کی گئی اور وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر کام کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جمعہ تک اس حوالے سے تقریباً 3,100 شکایات موصول ہو چکی ہیں، جنہیں کابینہ کی سطح پر بھی پیش کیا گیا۔ “ہم نے ہر شکایت کا جائزہ لیا ہے اور اس کا حل بھی طے کر لیا گیا ہے، تاہم کچھ تفصیلات وزارت داخلہ سے موصول ہونا باقی ہیں۔ امید ہے کہ یہ مسئلہ اسی ہفتے حل ہو جائے گا، بصورت دیگر آئندہ ہفتے تک اسے مکمل طور پر نمٹا دیا جائے گا،” وزیر نے کہا۔
یہ بیان انہوں نے ایک تقریب کے بعد دیا، جہاں پینانگ ہندو اینڈومنٹس بورڈ کے زیر انتظام عبادت گاہوں میں مینجمنٹ سسٹمز کی ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر بورڈ کے چیئرمین آر ایس این ریئر بھی موجود تھے۔
پس منظر کے طور پر، 29 مارچ کو مختلف صنعتی اداروں نے غیر ملکی ماہر کارکنوں کی درخواستوں کے طریقہ کار اور پراسیسنگ کے وقت میں حالیہ تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی ہدایات سے درخواستوں کی منظوری میں تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیوں پر اثر پڑ رہا ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد نہ صرف سرکاری عمل کو بہتر بنانا ہے بلکہ عبادت گاہوں میں آنے والے افراد کے لیے سہولیات کو بھی آسان بنانا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام کے ذریعے لوگ آن لائن ادائیگی اور عبادات کی بکنگ جیسے کام باآسانی انجام دے سکتے ہیں، جس سے وقت کی بچت اور انتظامی بہتری ممکن ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام ایک سال سے زائد عرصے سے جاری ہے اور ملک بھر میں متعدد عبادت گاہیں اس نظام کو اپنانا شروع کر چکی ہیں۔ “ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے نہ صرف لوگوں کو سہولت ملتی ہے بلکہ مالیاتی معاملات بھی زیادہ شفاف اور منظم ہو جاتے ہیں،” گوبند سنگھ دیو نے کہا۔
حکام کے مطابق غیر ملکی ماہر کارکن ملائیشیا کی معیشت کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کی درخواستوں کے نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول برقرار رہے۔

COMMENTS