ملائیشیا: حکومت نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی تجویز ابھی زیرِ غور ہے اور اس حوالے سے ت...
ملائیشیا: حکومت نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی تجویز ابھی زیرِ غور ہے اور اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ یا معاہدہ نہیں کیا گیا۔
وزارتِ انسانی وسائل ملائیشیا نے اپنے بیان میں کہا کہ اس منصوبے پر مختلف فریقین کے ساتھ مشاورت جاری ہے، جس میں لیبر فراہم کرنے والے ممالک اور صنعتی شعبے کے نمائندے شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ عمل ابھی جائزے اور بہتری کے مرحلے میں ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ ایسی تمام خبریں یا بیانات جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ منصوبے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، درست نہیں اور وہ حکومت کے موجودہ مؤقف کی عکاسی نہیں کرتے۔
حکام کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کے موجودہ نظام کے جامع جائزے کے دوران بھرتی کے عمل میں کئی خامیوں کی نشاندہی ہوئی، خاص طور پر ایسے مسائل جن میں مزدور قرض کے بوجھ کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے استحصال کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں حکومت مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ڈیجیٹل بھرتی نظام متعارف کرانے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے، تاکہ پورے عمل کو شفاف، مؤثر اور منظم بنایا جا سکے۔ اس مجوزہ نظام کے تحت آجر اپنی ضرورت کے مطابق براہِ راست غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کر سکیں گے۔
مجوزہ ماڈل میں بھرتی کا پورا عمل، بشمول رجسٹریشن، انتخاب، ملازمت کی مطابقت، معاہدے اور تعیناتی، ایک ہی نظام کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ وزارت کے مطابق اس سے درمیانی افراد (ایجنٹس) پر انحصار کم ہوگا اور بھرتی کے اخراجات مکمل طور پر آجر برداشت کریں گے، جس سے کارکنوں پر مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
یہ تجویز بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہے، خصوصاً انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے منصفانہ بھرتی کے اصولوں کے تحت، اور اس سے انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزارت نے مزید بتایا کہ یہ نظام صرف بھرتی کے عمل تک محدود ہوگا اور موجودہ قوانین کے تحت ریگولیٹری منظوری، کوٹہ الاٹمنٹ اور نفاذی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ، یہ نظام موجودہ حکومتی پلیٹ فارمز جیسے فارن ورکر سنٹرلائزڈ مینجمنٹ سسٹم اور نیشنل انٹیگریٹڈ امیگریشن سسٹم کے ساتھ مربوط ہوگا۔
حکام کے مطابق ملائیشیا میں نجی ملازمت ایجنسیوں کا کردار برقرار رہے گا اور یہ نظام آجر یا لائسنس یافتہ ایجنسیوں کے ذریعے استعمال کیا جا سکے گا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور بھارت سمیت کئی لیبر فراہم کرنے والے ممالک نے اس تجویز پر مثبت ردِعمل دیا ہے، خاص طور پر شفافیت اور کارکردگی میں بہتری کے حوالے سے۔
کاروباری تنظیموں جیسے ملائیشین ایمپلائرز فیڈریشن، ایسوسی ایٹڈ چائنیز چیمبرز آف کامرس، اور دیگر صنعتی اداروں نے بھی اس نظام کو جدید بنانے کی حمایت کی ہے۔ فیڈریشن آف ملائیشین مینوفیکچررز، جو 13,000 سے زائد کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
وزارت نے کہا کہ اس منصوبے پر حتمی عمل درآمد کابینہ کی منظوری اور تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا، تاکہ ایک متوازن اور مؤثر نظام تشکیل دیا جا سکے۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت مقامی افرادی قوت کی ترقی پر توجہ مرکوز رکھے گی، تاکہ طویل مدتی منصوبوں کے تحت غیر ملکی مزدوروں پر انحصار کم کیا جا سکے۔

COMMENTS