کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے انتظامی نظام کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے مختلف تنظیموں نے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ نور...
کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے انتظامی نظام کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے مختلف تنظیموں نے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ نورالعزہ انور کے مؤقف کی حمایت بھی سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تین بڑی تنظیموں پرساتؤان ایجنسی پیکرجان ملائیشیا (پی اے پی اے)، پرتوبوہان کیبانگسان ایجنسی پیکرجان سواستا ملائیشیا (پی آئی کے اے پی) اور پرتوبوہان کیبانگسان سمبر منوسیا (پی یو ایس ایم اے) نے مشترکہ بیان میں کہا کہ موجودہ نظام میں بیوروکریسی اور غیر ضروری درمیانی فریقوں کی کثرت نے آجر اور ایجنسیوں پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے انتظام میں بہت زیادہ تیسرے فریق شامل ہو چکے ہیں، جس سے نجی روزگار ایجنسیوں کا اصل کردار کمزور ہو گیا ہے۔ تنظیموں کے مطابق یہ ایجنسیاں قانون (ایکٹ 246) کے تحت کام کرتی ہیں، لیکن موجودہ نظام ان کے بنیادی کردار سے ہٹ چکا ہے۔
تنظیموں نے اپنے بیان میں کہا، “ہم نورالعزہ انور کے مؤقف سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ بھرتی کا عمل اتنا پیچیدہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس میں متعدد نجی کنٹریکٹرز شامل ہوں جو حکومتی نظام کو چلائیں۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب نورالعزہ انور نے حال ہی میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو سادہ بنایا جائے اور اس میں موجود “متعدد سطحوں” والے کنٹریکٹرز کو کم کیا جائے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وقت کے ساتھ اس نظام میں درمیانی فریقوں کی تعداد بڑھتی گئی ہے، جس سے اخراجات میں اضافہ ہوا اور ذمہ داریوں میں ابہام پیدا ہوا۔ ان کے مطابق یہ نظام اب اپنے اصل مقصد سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
نورالعزہ انور نے مزید کہا کہ اس مسئلے کو صرف معاشی اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس نظام کی ساخت اور اس کے قومی مفاد پر اثرات کا جائزہ لیا جائے۔
دوسری جانب، ان تنظیموں نے وزارتِ انسانی وسائل کی جانب سے مجوزہ نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی بھی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک نیا عالمی ریکروٹمنٹ پلیٹ فارم متعارف کرانے سے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتے ہیں۔
تنظیموں کے مطابق اس مجوزہ پلیٹ فارم سے لائسنس یافتہ ایجنسیوں کا کردار ختم ہونے کا خدشہ ہے اور اس سے تقریباً 12,000 خاندان متاثر ہو سکتے ہیں جو اس شعبے سے وابستہ ہیں۔
قبل ازیں، وزیرِ انسانی وسائل نے اعلان کیا تھا کہ حکومت ایک نیا نظام متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا جائے گا۔ اس نظام کا مقصد درمیانی فریقوں پر انحصار کم کرنا اور بھرتی کے اخراجات کو مکمل طور پر آجر کے ذمہ کرنا ہے۔
یہ اقدام انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے اصولوں کے مطابق ہے، جس کا مقصد کارکنوں کو قرض اور استحصال کے خطرات سے بچانا ہے۔

COMMENTS