ایپوہ: ملائیشیا کی حکومت نے ایشیا مغربی بحران کے باعث پیدا ہونے والی عالمی توانائی صورتحال کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ تاجروں کے لیے...
ایپوہ: ملائیشیا کی حکومت نے ایشیا مغربی بحران کے باعث پیدا ہونے والی عالمی توانائی صورتحال کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ تاجروں کے لیے امدادی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ حکومت مختلف ممکنہ میکانزم کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق زیر غور اقدامات میں ای-انوائس کے نفاذ میں تاخیر، ٹیکس اور ٹیرف میں نرمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “ہم اس بحران کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم اس وقت ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ عوام کو ضروری اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔” انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے کوکنگ آئل، آٹا، نمک، چینی، سبزیاں، مچھلی، گوشت اور مرغی کی دستیابی متاثر نہ ہو۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ قیمتوں پر کنٹرول بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں فوری طور پر عوامی ضروریات کو پورا کرنا زیادہ اہم ہے، جبکہ دیگر معاشی اقدامات مرحلہ وار کیے جائیں گے۔
یہ بیان انہوں نے پروگرام “مدانی رکیت 2026” کے افتتاح کے موقع پر دیا، جہاں انہوں نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور عالمی حالات کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ اس موقع پر انہوں نے اس سوال کا بھی جواب دیا کہ آیا حکومت کسی بڑے معاشی پیکج کا اعلان کرے گی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پس منظر کے طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیا مغربی خطے میں جاری تنازعات کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا براہ راست اثر درآمدی معیشتوں پر پڑتا ہے۔ ملائیشیا جیسے ممالک میں اس کے اثرات خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر زیادہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں، جس سے عام صارفین اور تاجر دونوں متاثر ہوں گے۔ اسی لیے حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، مختلف وزارتیں اس حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہیں تاکہ ایک جامع پالیسی تیار کی جا سکے۔ اس میں نہ صرف تاجروں کو سہولت دینا بلکہ سپلائی چین کو مستحکم رکھنا بھی شامل ہے۔

COMMENTS