پیتالنگ جایا: ملائیشیا کے محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں موسلا دھار بارش، گرج چمک اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کرتے ہوئے ہنگامی الرٹ جار...
پیتالنگ جایا: ملائیشیا کے محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں موسلا دھار بارش، گرج چمک اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کرتے ہوئے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے، جو آج دوپہر 3 بجے تک مؤثر رہے گا۔
محکمہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، جزیرہ نما ملائیشیا کے متعدد علاقوں میں شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جن میں ریاست کداح کے علاقے لنگکاوی، کوالا مودا، بالنگ، کولم اور بندر بہارو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پینانگ اور پاہانگ کے علاقوں، خصوصاً کیمرون ہائی لینڈز، راوب اور بینتونگ میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دارالحکومت کوالالمپور اور ریاست سلنگور کے مختلف اضلاع جیسے ہولو سلنگور، گومبک، پیٹالنگ اور ہولو لنگات بھی اس موسمی الرٹ کی زد میں ہیں، جہاں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب، مشرقی ملائیشیا میں بھی موسم کی صورتحال غیر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ ریاست سراواک کے کئی علاقوں، جن میں کوچنگ، سریان، ساماراہان، سری آمان، موکاہ، کپیٹ اور بنتولو شامل ہیں، شدید بارش اور گرج چمک کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
اسی طرح ریاست صباح کے علاقوں بیوفورٹ، پاپار اور پینامپانگ میں بھی خراب موسم کی پیشگوئی کی گئی ہے، جہاں تیز ہواؤں اور بارش کے باعث روزمرہ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، اس نوعیت کی وارننگ اس وقت جاری کی جاتی ہے جب بارش کی شدت فی گھنٹہ 20 ملی میٹر سے تجاوز کرنے کا امکان ہو اور یہ صورتحال کم از کم ایک گھنٹے تک برقرار رہنے کی توقع ہو۔ ادارے نے واضح کیا کہ یہ قلیل مدتی وارننگ ہوتی ہے، جس کی مدت زیادہ سے زیادہ چھ گھنٹے تک محدود ہوتی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق، حالیہ دنوں میں خطے میں موسمی تبدیلیوں کے باعث غیر متوقع بارشوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
حکام نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط برتنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
مزید برآں، متعلقہ اداروں کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

COMMENTS