کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارتِ انسانی وسائل نے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے نئے نظام کے نفاذ پر کسی قسم کے تحفظات نہ ہونے کا عندیہ دیا ہ...
کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارتِ انسانی وسائل نے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے نئے نظام کے نفاذ پر کسی قسم کے تحفظات نہ ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیرِ انسانی وسائل آر رامانن نے کہا ہے کہ حکومت اس نظام کے نفاذ کے طریقہ کار پر تاحال غور کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ نیا نظام ملائیشین آئی ٹی کمپنی بیسٹی نیٹ سندرن برہاد کی جانب سے تیار کیا گیا ہے، جسے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو زیادہ شفاف اور منظم بنانے کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے۔
وزیر کے مطابق اس وقت متعلقہ حکام اس سسٹم کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی مشاورت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم ابھی اس معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کے بعد میں کابینہ میں ایک باضابطہ رپورٹ پیش کروں گا۔ فی الحال مجھے بیسٹی نیٹ کو سسٹم ڈیولپر کے طور پر اپنانے میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔”
یہ نیا نظام اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کمپنیاں براہِ راست غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کر سکیں، جس سے درمیانی ایجنٹس (مڈل مین) کا کردار کم ہو جائے گا۔ عام طور پر یہی ایجنٹس اضافی اور بعض اوقات غیر ضروری فیس وصول کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بھرتی کا عمل مہنگا ہو جاتا ہے۔
بیسٹی کی جانب سے تیار کردہ یہ سسٹم فارین ورکرز سنٹرل منیجمنٹ سسٹم کے نام سے جانا جاتا ہے، جو پہلے بھی غیر ملکی کارکنوں کے انتظام کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کو مزید بہتر بنا کر اسے نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے ڈیجیٹل سسٹمز نہ صرف شفافیت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ بدعنوانی اور غیر ضروری اخراجات کو بھی کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ خاص طور پر غیر ملکی مزدوروں کی بھرتی جیسے حساس شعبے میں اس نوعیت کی اصلاحات اہم سمجھی جاتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ کابینہ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا، جس کے بعد اس سسٹم کو مرحلہ وار نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات آئندہ دنوں میں سامنے آنے کا امکان ہے۔

COMMENTS