شاہ عالم: غیر قانونی داخلے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے درمیان ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں میانمار سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ خاتو...
شاہ عالم: غیر قانونی داخلے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے درمیان ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں میانمار سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ خاتون نے بہتر روزگار کی امید میں اپنے خاندان کا گھر گروی رکھ کر 10 ہزار ملائیشین رنگٹ ادا کیے، تاہم وہ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے بعد امیگریشن حکام کے ہاتھوں گرفتار ہو گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون، جس کی شناخت تھیت ہنن او کے نام سے ہوئی ہے، کو ریاست سیلانگور کے علاقے سیتیا عالم میں ایک مشترکہ رہائش گاہ پر کیے گئے امیگریشن آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا۔ یہ کارروائی رات 12 بجے کے بعد شروع کی گئی جس میں متعدد غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا۔
خاتون نے حکام کو بتایا کہ وہ تھائی لینڈ کے راستے ایک بڑی کشتی کے ذریعے ملائیشیا کے قریب پہنچی اور بعد ازاں غیر قانونی سرحدی راستوں کے ذریعے بغیر کسی دستاویز کے ملک میں داخل ہوئی۔ اس نے انکشاف کیا کہ اس کے والدین نے اس کی بیرون ملک ملازمت کے خواب کو پورا کرنے کے لیے گھر تک گروی رکھ دیا۔
اس کا کہنا تھا، “میرے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں تھی، میں غیر قانونی راستے سے یہاں آئی۔ میرے والدین نے ایجنٹ کو رقم دینے کے لیے گھر گروی رکھا تاکہ میں ملائیشیا آ کر کام کر سکوں۔ ابھی تک مجھے تنخواہ بھی نہیں ملی، مجھے اپنے فیصلے پر افسوس ہے۔”
ابتدائی معلومات کے مطابق خاتون سیتیا عالم کے ایک کینٹین میں کام کر رہی تھی جہاں اسے تقریباً 60 رنگٹ یومیہ اجرت ملتی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ صرف ثانوی تعلیم تک زیر تعلیم رہی جس کے بعد اس نے بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طریقے سے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
اسی کارروائی کے دوران ایک اور غیر قانونی تارک وطن، 54 سالہ عثمان ابراہیم کو بھی گرفتار کیا گیا۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک سال قبل اپنی اہلیہ کے ساتھ انڈونیشیا کے علاقے بٹام کے ذریعے 2 ہزار رنگٹ ادا کر کے ملائیشیا داخل ہوا تھا۔ اس کا پاسپورٹ دو سال قبل گم ہو گیا تھا جس کے بعد اس نے غیر قانونی راستہ اختیار کیا۔
عثمان نے کہا، “میں مزدوری کرتا ہوں جبکہ میری بیوی صفائی کا کام کرتی ہے۔ مجھے بیت الخلا کے پیچھے چھپتے ہوئے گرفتار کیا گیا جبکہ میری بیوی فرار ہو گئی اور اس کا کوئی علم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔ ہم ہر ماہ 50 رنگٹ ایک مقامی نمائندے کو دیتے تھے۔”
اسی آپریشن میں ایک اور شخص، 32 سالہ سورادی، اپنے 18 ماہ کے بچے کو لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، تاہم اس کی بیوی کو گرفتار کر لیا گیا۔ سورادی نے بتایا کہ وہ گزشتہ تین سال سے ملائیشیا میں مقیم ہے اور یومیہ تقریباً 80 رنگٹ مزدوری کر رہا تھا۔
امیگریشن حکام کے مطابق یہ کارروائی غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس میں مختلف مقامات پر چھاپے مار کر ایسے افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے جو بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ غریب ممالک کے شہری بہتر روزگار کی تلاش میں کس حد تک خطرات مول لینے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی داخلے کے باعث مقامی معیشت، سیکیورٹی اور سماجی نظام پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔
حکام نے عوام کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ایجنٹس سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔

COMMENTS