کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک بڑے آپریشن کے دوران غیر ملکی کارکنوں سے متعلق جعلی دستاویزات تیار کرنے والے ایک منظم گروہ کو ب...
کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک بڑے آپریشن کے دوران غیر ملکی کارکنوں سے متعلق جعلی دستاویزات تیار کرنے والے ایک منظم گروہ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ کارروائی 13 اپریل کو “آپریشن سرکاپ” کے تحت کی گئی، جو چھ مختلف مقامات پر چھاپوں پر مشتمل تھی۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی چھ ماہ تک جاری رہنے والی خفیہ نگرانی اور موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر کی گئی۔ چھاپوں کے دوران ٹیم کو بڑی تعداد میں تبدیل شدہ امیگریشن دستاویزات، بشمول ای پاس اور سیکیورٹی اسٹیکرز، برآمد ہوئے جو حکام کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 111 پاسپورٹس، 10 لیپ ٹاپ، 6 موبائل فونز اور 3,950 رنگٹ نقد رقم ضبط کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اشیاء گروہ کی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی تھیں۔
اس آپریشن میں 9 افراد کو گرفتار کیا گیا جن کی عمریں 26 سے 61 سال کے درمیان ہیں۔ گرفتار افراد میں نیپال، بھارت، بنگلہ دیش، ویتنام اور ایک مقامی شہری شامل ہے۔ حکام کے مطابق ایک خاتون، جو ویتنام سے تعلق رکھتی ہے، اس گروہ میں کمپنی ڈائریکٹر کے طور پر کردار ادا کر رہی تھی۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق اس کارروائی کے اگلے مرحلے میں 14 اپریل کی رات تقریباً 12:30 بجے ایک خصوصی ٹیم نے کوالالمپور کے علاقے جالان گیلووے میں مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی۔ ٹیم نے ایک گاڑی کو روکا جس میں مرکزی ملزم فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم اسے موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
مرکزی ملزم کی شناخت مہندرہ جنگ شاہ عرف “ایم جے” کے نام سے ہوئی ہے، جو 43 سالہ نیپالی شہری ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ گروہ تقریباً سات سال سے سرگرم تھا اور اس دوران اس نے اندازاً 100 ملین رنگٹ تک منافع حاصل کیا۔
حکام نے بتایا کہ اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جن میں کمپنی کے ڈھانچے اور مالی معاملات کا جائزہ بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں کمپنی کمیشن آف ملائیشیا (ایس ایس ایم) اور ان لینڈ ریونیو بورڈ کے ساتھ بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
یہ مقدمہ امیگریشن ایکٹ 1959/63، امیگریشن قواعد 1963، پاسپورٹ ایکٹ 1966 اور منی لانڈرنگ سے متعلق قوانین کے تحت درج کیا گیا ہے۔ محکمہ امیگریشن نے کہا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر مکمل تحقیقات کرے گا تاکہ تمام ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
محکمہ امیگریشن نے واضح کیا کہ ایسے جرائم کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی، خصوصاً وہ کیسز جن میں جعلی دستاویزات اور امیگریشن سہولیات کے غلط استعمال کا عنصر شامل ہو۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات حکام کو فراہم کریں۔

COMMENTS