ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک کارروائی کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کی اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے مجموعی ط...
ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک کارروائی کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کی اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے مجموعی طور پر 9 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں 8 انڈونیشی شہری اور ایک مقامی ٹرانسپورٹر شامل ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی ٹرمینل گومباک اور ٹرمینل برسیپادو سلاتان میں کی گئی، جہاں خفیہ معلومات کی بنیاد پر مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گروہ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک میں داخل کرنے کے لیے پیچیدہ اور متعدد راستوں کا استعمال کر رہا تھا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچا جا سکے۔
حکام نے بتایا کہ اس سندیکیٹ کا طریقہ کار خاصا منظم تھا۔ غیر ملکی شہریوں کو پہلے انڈونیشیا سے سنگاپور، پھر تھائی لینڈ کے شہر ہات یائی کے راستے ملائیشیا لایا جاتا تھا۔ اس کے بعد انہیں کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ہوتے ہوئے کلنتان منتقل کیا جاتا، جہاں سے وہ ایکسپریس بسوں کے ذریعے وادی کلانگ پہنچتے تھے۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ اسمگلنگ میں ملوث افراد پاسپورٹس پر جعلی انٹری اسٹیمپس لگاتے تھے تاکہ حکام کو دھوکہ دیا جا سکے اور غیر قانونی داخلے کو قانونی ظاہر کیا جا سکے۔ اس عمل کے ذریعے امیگریشن چیک کو باآسانی عبور کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
حکام کے مطابق ہر غیر قانونی تارک وطن سے اس پورے عمل کے لیے تقریباً 3,500 سے 4,000 رنگٹ تک وصول کیے جاتے تھے۔ یہ رقم مختلف مراحل پر ایجنٹس اور سہولت کاروں میں تقسیم کی جاتی تھی، جس سے اس نیٹ ورک کی منظم نوعیت ظاہر ہوتی ہے۔
محکمہ امیگریشن نے کہا ہے کہ گرفتار افراد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان اور ممکنہ سہولت کاروں کی نشاندہی کی جا سکے۔ حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس سندیکیٹ کے بین الاقوامی روابط بھی موجود ہیں یا نہیں۔
حکام نے واضح کیا کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ایسے نیٹ ورکس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے جو ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکیورٹی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
یہ کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے سرحدی نگرانی اور انٹیلی جنس نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

COMMENTS