پتراجایا: محکمہ امیگریشن ملائشیا (جے آئی ایم) نے غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے والے آجروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ...
پتراجایا: محکمہ امیگریشن ملائشیا (جے آئی ایم) نے غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے والے آجروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 45 افراد کو حراست میں لے لیا۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی صبح 11 بجے بیک وقت آٹھ مختلف مقامات پر کی گئی، جن میں سیمینہ، جینجروم، سری کیمبنگن، چراس اور سرڈانگ شامل ہیں۔
یہ آپریشن عوامی شکایات اور تقریباً دو ہفتوں کی خفیہ نگرانی کے بعد ترتیب دیا گیا، جس میں 52 امیگریشن افسران نے حصہ لیا۔ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 88 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں 66 غیر ملکی اور 22 مقامی شہری شامل تھے۔
جانچ کے نتیجے میں 45 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جن کا تعلق بنگلہ دیش، میانمر، انڈیا، نیپال اور انڈونیشیا سے بتایا گیا ہے۔ گرفتار افراد کی عمریں 29 سے 50 سال کے درمیان ہیں۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کو امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت خلاف ورزیوں کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ نو (9) مقامی شہریوں کو سمن جاری کیے گئے تاکہ وہ تحقیقات میں بطور گواہ شامل ہو سکیں۔
تمام گرفتار غیر ملکیوں کو امیگریشن ڈیپو سیمینہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے مزید تفتیش جاری ہے اور قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
محکمہ امیگریشن نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں صرف غیر قانونی تارکین وطن تک محدود نہیں بلکہ ایسے آجروں کے خلاف بھی جاری رہیں گی جو قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر اجازت غیر ملکیوں کو ملازمت دیتے ہیں۔
حکام کے مطابق بعض آجر حکومتی پالیسی اور قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں، جس سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ لیبر مارکیٹ میں بے ضابطگیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔
جے آئی ایم نے خبردار کیا ہے کہ ایسے تمام افراد اور اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی جو غیر قانونی غیر ملکیوں کو پناہ دیتے یا ملازمت فراہم کرتے ہیں۔ حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملکی قوانین کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے ان کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا۔
عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

COMMENTS