ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک بڑے آپریشن کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کی اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے 10 افر...
ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک بڑے آپریشن کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کی اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے 10 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں ایک سینئر امیگریشن افسر بھی شامل ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی “آپریشن تویو” کے تحت کی گئی، جو کداح کے علاقے بکیت کایو ہتام میں واقع کمپلیکس امیگریشن، کسٹم، قرنطینہ اور سیکیورٹی میں انجام دی گئی۔ اس آپریشن کے نتیجے میں ایک ایسے گروہ کا سراغ ملا جو غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل کروانے میں ملوث تھا۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے ایک بیان میں کہا کہ گرفتار افراد مختلف کردار ادا کر رہے تھے، جن میں “ایجنٹ”، “ٹرانسپورٹر” اور “سہولت کار” شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس گروہ نے ملک کے نظام کو استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی داخلوں کو ممکن بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو تھائی لینڈ کے راستے ملائیشیا میں داخل کیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لیے “ٹرانسپورٹر” افراد کو ٹیکسی ڈرائیور کے بھیس میں سرحد پار کرواتے تھے تاکہ حکام کو دھوکہ دیا جا سکے۔
تحقیقات کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں پانچ بھارتی شہری اور ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، جنہیں “غیر قانونی تارکین وطن” قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد داخلے کے قانونی تقاضے پورے نہیں کرتے تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں ملک میں داخل کیا گیا۔
بیان کے مطابق اس کارروائی کا سب سے اہم پہلو ایک سینئر امیگریشن افسر کی گرفتاری ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ اس گروہ کے لیے “سہولت کار” کے طور پر کام کر رہا تھا۔ الزام کے مطابق وہ غیر قانونی طور پر پاسپورٹس پر انٹری کی مہر لگا دیتا تھا، حالانکہ متعلقہ افراد داخلے کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔
حکام نے بتایا کہ اس اسمگلنگ نیٹ ورک نے ہر فرد سے تقریباً 1000 ملائیشین رنگٹ وصول کیے۔ اس رقم میں سے 400 رنگٹ مبینہ طور پر متعلقہ افسر کو دیے جاتے تھے تاکہ غیر قانونی داخلے کو ممکن بنایا جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل کے مطابق یہ گروہ سال کے آغاز سے سرگرم تھا اور اس کی وجہ سے قومی خزانے کو تقریباً 4.1 ملین رنگٹ کا نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتی ہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
آپریشن کے دوران حکام نے متعدد اشیاء بھی ضبط کیں، جن میں پانچ بھارتی پاسپورٹس، ایک پاکستانی پاسپورٹ، مختلف سرحدی پاس، امیگریشن سیکیورٹی مہر، 12 موبائل فونز اور 30,000 بھارتی روپے نقد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک نسان سینٹرا گاڑی اور دو موٹر سائیکلیں بھی تحویل میں لی گئیں، جنہیں اس سرگرمی میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے کداح امیگریشن دفتر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف انسانی اسمگلنگ اور امیگریشن قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں، جبکہ چار مقامی افراد کو بھی تحقیقات میں مدد کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
محکمہ امیگریشن نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی فرد، چاہے وہ سرکاری اہلکار ہی کیوں نہ ہو، کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس طرح کے آپریشنز کا مقصد نہ صرف قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے بلکہ سرحدی نظام کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ نظام کے اندر موجود کمزوریوں کو بھی دور کرنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

COMMENTS