ملائیشیا کے صنعتی علاقے کلانگ ویلی میں امیگریشن حکام نے بڑی مشترکہ کارروائی کے دوران 133 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا، جو دو مختلف...
ملائیشیا کے صنعتی علاقے کلانگ ویلی میں امیگریشن حکام نے بڑی مشترکہ کارروائی کے دوران 133 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا، جو دو مختلف فیکٹریوں میں بغیر قانونی دستاویزات کے کام کرتے پائے گئے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی آج صبح بالاکونگ اور شاہ عالم کے صنعتی علاقوں میں کی گئی۔
محکمہ امیگریشن ملائشیا کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان نے بتایا کہ اس آپریشن میں مجموعی طور پر 145 افسران نے حصہ لیا، جن میں وزارت تجارت و لاگتِ زندگی، کسٹمز، محکمہ ماحولیات اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار بھی شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی صبح 11 بجے سے دوپہر 12 بجے تک جاری رہی، جس کے دوران مجموعی طور پر 162 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ ان میں سے 133 غیر ملکی شہریوں کو مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں پر گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں، جن میں 65 بنگلہ دیشی، 18 پاکستانی، 17 میانمار، 15 نیپالی، 11 انڈونیشی، 4 بھارتی، جبکہ ایک ایک ویتنام اور دو چینی شہری شامل ہیں۔ اکثریت مردوں کی ہے جن کی عمریں 20 سے 45 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
داتوک ذکریا شعبان نے بتایا، "گرفتار افراد مختلف خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گئے جن میں شناختی دستاویزات کی عدم موجودگی، ویزا شرائط کی خلاف ورزی، مدت سے زائد قیام اور غیر تسلیم شدہ کارڈز کا استعمال شامل ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے امیگریشن حراستی مراکز منتقل کیا جائے گا، جہاں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
کارروائی کے دوران جباتن کسٹم دیراجا ملائیشیا نے فیکٹریوں سے غیر قانونی شراب اور بغیر ٹیکس والے سگریٹ بھی برآمد کیے، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ غیر ملکی کارکنوں کی ملکیت تھے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ملک میں غیر قانونی امیگریشن کے خاتمے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہیں، جن کے تحت ایسے افراد کو تلاش کر کے گرفتار کیا جاتا ہے جو ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
داتوک ذکریا شعبان نے کہا کہ یہ آپریشنز مسلسل جاری رہیں گے تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار، مقدمہ درج اور بعد ازاں ملک بدر کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات امیگریشن ایکٹ 1959/63، پاسپورٹ ایکٹ 1966، امیگریشن ریگولیشنز 1963 اور اینٹی ٹریفکنگ قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب انہوں نے آجرین کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت دینا یا انہیں تحفظ فراہم کرنا سنگین جرم ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
مزید برآں، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق کسی بھی معلومات کو حکام تک پہنچائیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ "ریپیٹری ایشن پروگرام 2.0" اپریل 2026 میں ختم ہو رہا ہے، اس لیے غیر قانونی تارکین وطن کو چاہیے کہ وہ اس سہولت سے فوری فائدہ اٹھائیں، بصورت دیگر بعد میں مزید سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

COMMENTS