جوہر بہرو: ملائیشیا کے شہر جوہر بہرو میں امیگریشن حکام نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مختلف کاروباری مراکز پر چھاپے مار کر 35 غیر قانونی تارک...
جوہر بہرو: ملائیشیا کے شہر جوہر بہرو میں امیگریشن حکام نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مختلف کاروباری مراکز پر چھاپے مار کر 35 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی خفیہ معلومات اور عوامی شکایات کی بنیاد پر کی گئی، جس میں متعدد اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
جباتن امیگریشن ملائیشیا جوہر کے مطابق یہ آپریشن "اوپس سیلرا"، "اوپس کتیپ"، "اوپس بلنجا" اور "اوپس ساپو" کے تحت منگل کے روز دوپہر تقریباً 2 بجے شروع کیا گیا۔ اس میں ریاستی انفورسمنٹ ڈویژن کے ساتھ ساتھ ایجنسی کاوالن دان پرلندونگن سمپادن (اے کے پی ایس) نے بھی معاونت فراہم کی۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر داتوک محمد روسدی محمد داروس نے ایک بیان میں بتایا کہ اس آپریشن کے دوران کئی مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں گروسری اسٹورز، قالین کی دکانیں، کھانے پینے کے مراکز اور دیگر کاروباری ادارے شامل تھے۔ ان مقامات پر ایسے غیر ملکی افراد کی موجودگی کی اطلاعات تھیں جو بغیر قانونی دستاویزات کے کام کر رہے تھے یا قیام پذیر تھے۔
انہوں نے کہا، “ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گرفتار ہونے والے 35 افراد مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث تھے۔ ان میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں اور ان کی عمریں 19 سے 52 سال کے درمیان ہیں۔”
اعداد و شمار کے مطابق گرفتار افراد میں سات مرد انڈونیشیا کے شہری، چھ مرد میانمار کے، چار مرد پاکستان کے، پانچ مرد بنگلہ دیش کے اور دو مرد نیپال کے شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سات خواتین انڈونیشیا اور چار خواتین میانمار سے تعلق رکھتی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ افراد یا تو مذکورہ کاروباری اداروں میں ملازمت کر رہے تھے یا بطور گاہک وہاں موجود تھے۔ تاہم ان کے پاس درست سفری یا کام کے اجازت نامے موجود نہیں تھے، جس کے باعث انہیں حراست میں لیا گیا۔
داتوک محمد روسدی نے مزید بتایا کہ تمام گرفتار شدگان کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے سیٹیا ٹروپیکا امیگریشن ڈیپو منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ملک میں صرف وہی افراد رہیں جو قانونی طریقے سے داخل ہوئے ہوں۔ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔”
اس آپریشن کے دوران حکام نے نو (9) گواہی سمن (فارم 29) بھی جاری کیے، تاکہ مزید تحقیقات میں مدد حاصل کی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض کاروباری مالکان یا افراد ممکنہ طور پر غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت فراہم کر رہے تھے، جس کی بھی جانچ جاری ہے۔
محکمہ امیگریشن نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اس کارروائی میں نہایت اہم ثابت ہوئیں۔ ساتھ ہی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسے عناصر کی نشاندہی کریں جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔
ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ ایک عرصے سے موجود ہے، جس کے باعث حکومت وقتاً فوقتاً ایسے آپریشنز کرتی رہتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ان کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، خاص طور پر کاروباری شعبوں میں جہاں غیر قانونی مزدوروں کی موجودگی کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔
حکام کے مطابق اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد نہ صرف امیگریشن قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے بلکہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی مزدوری جیسے جرائم کا خاتمہ بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “ہم عوامی تعاون کے بغیر اس مسئلے پر قابو نہیں پا سکتے، اس لیے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دے۔”

COMMENTS