کوالالمپور: ملائیشیا میں سرکاری شعبے کے لیے ورک فرام ہوم پالیسی کے نفاذ کے باوجود امیگریشن سروسز معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ محکمہ امیگریشن...
کوالالمپور: ملائیشیا میں سرکاری شعبے کے لیے ورک فرام ہوم پالیسی کے نفاذ کے باوجود امیگریشن سروسز معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ محکمہ امیگریشن ملائشیا نے واضح کیا ہے کہ 15 اپریل 2026 سے نافذ ہونے والی اس پالیسی کے تحت ملک بھر میں امیگریشن کاؤنٹرز اپنی خدمات بغیر کسی رکاوٹ کے فراہم کرتے رہیں گے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق، پالیسی کے نفاذ کا مقصد سرکاری اداروں میں کام کے طریقہ کار کو منظم کرنا ہے، تاہم امیگریشن جیسی اہم سروسز اس سے مستثنیٰ رکھی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن ایک ایسا ادارہ ہے جو قومی سلامتی اور عوامی خدمات دونوں سے براہ راست منسلک ہے، اس لیے اس کے آپریشنز کو مکمل طور پر ورک فرام ہوم پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ محکمہ امیگریشن کے افسران اور عملہ اپنی ذمہ داریاں دفاتر میں انجام دیتے رہیں گے۔ یہ فیصلہ آپریشنل ضروریات اور محکمہ کے سربراہ کی ہدایات کے مطابق کیا گیا ہے تاکہ خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس پالیسی کے باوجود عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی خدمات متاثر نہیں ہوں گی۔ پاسپورٹ کی درخواست، ویزا، پاس، پرمٹ اور دیگر امیگریشن معاملات معمول کے مطابق طے شدہ اوقات کار کے تحت جاری رہیں گے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی شہریوں اور غیر ملکی افراد کو بغیر کسی تاخیر کے سہولیات فراہم کرنا ہے۔
محکمہ امیگریشن نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ تازہ ترین معلومات اور اہم اعلانات کے لیے ادارے کی سرکاری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے رجوع کریں۔ اس کے ذریعے شہری کسی بھی تبدیلی یا نئی ہدایات سے بروقت آگاہ رہ سکتے ہیں۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ پالیسی کا اطلاق عمومی سرکاری شعبے پر ہوگا، تاہم ایسے ادارے جو براہ راست عوامی خدمات فراہم کرتے ہیں یا جن کا تعلق سیکیورٹی سے ہے، انہیں مکمل طور پر اس پالیسی میں شامل نہیں کیا گیا۔ اسی تناظر میں محکمہ امیگریشن کو خصوصی استثنیٰ دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس طرح کے فیصلے اس لیے کیے جاتے ہیں تاکہ اہم سرکاری خدمات میں تسلسل برقرار رہے اور عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خاص طور پر امیگریشن جیسے حساس شعبے میں خدمات کا تسلسل انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

COMMENTS