ملائیشیا کے شہر جوہر بہرو میں عوامی مقامات پر کوڑا پھینکنے کے جرم میں تین افراد، جن میں دو غیر ملکی بھی شامل ہیں، کو مجموعی طور پر 2,800 رنگ...
ملائیشیا کے شہر جوہر بہرو میں عوامی مقامات پر کوڑا پھینکنے کے جرم میں تین افراد، جن میں دو غیر ملکی بھی شامل ہیں، کو مجموعی طور پر 2,800 رنگٹ جرمانہ عائد کیا گیا ہے، جبکہ عدالت نے انہیں سماجی خدمت (کمیونٹی سروس) کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
یہ فیصلہ سیشن کورٹ کے جج داتؤک چی وان زیدی چی وان ابراہیم نے اس وقت سنایا جب تینوں ملزمان، 34 سالہ محمد صوفیان مسبان، 40 سالہ بھارتی شہری سنہا ویبھو، اور 22 سالہ نیپالی شہری بھارت بہادر نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، محمد صوفیان نے 27 جنوری کو شام 4 بج کر 40 منٹ پر کولائی کے ریسٹ اینڈ ریلیکس ایریا کے پارکنگ مقام پر سگریٹ کا ٹکڑا پھینکا تھا۔ اسی طرح سنہا ویبھو نے 14 جنوری کو شام 5 بج کر 48 منٹ پر تمان آباد کے جالان سریگالا میں ایک دکان کے سامنے مشروب کا خالی ڈبہ پھینکا۔ جبکہ بھارت بہادر نے یکم جنوری کو دوپہر 12 بج کر 15 منٹ پر تمان بنتانگ اوتما، کولائی میں سگریٹ کا ٹکڑا زمین پر پھینکا۔
عدالت نے محمد صوفیان کو 800 رنگٹ جرمانہ اور 6 گھنٹے کی سماجی خدمت کی سزا سنائی، جبکہ سنہا ویبھو اور بھارت بہادر کو 1,000، 1,000 رنگٹ جرمانہ کے ساتھ بالترتیب 4 اور 6 گھنٹے کی سماجی خدمت کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ تمام سماجی خدمت کے اوقات چھ ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں۔
تینوں ملزمان پر فرد جرم ویسٹ مینجمنٹ اینڈ پبلک کلیننگ ایکٹ 2007 کی دفعہ 77A(1) کے تحت عائد کی گئی، جس کے تحت عوامی مقامات پر کوڑا پھینکنا ایک قابل سزا جرم ہے۔ اس قانون کے تحت مجرم کو جرمانے کے ساتھ ساتھ کمیونٹی سروس بھی دی جا سکتی ہے، جیسا کہ دفعہ 77B(1) میں درج ہے۔
استغاثہ کی جانب سے مقدمہ ایس ڈبلیو کارپ کی پراسیکیوٹر روبیہ مولود نے پیش کیا، جبکہ تینوں ملزمان عدالت میں بغیر کسی وکیل کے پیش ہوئے۔
اس موقع پر جوہر کے ایس ڈبلیو کارپ کے ڈائریکٹر زینال فطری احمد نے بتایا کہ ادارہ صفائی سے متعلق قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروا رہا ہے۔ ان کے مطابق اب تک کوڑا پھینکنے کے معمولی جرائم پر 153 نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں 92 مقامی شہری جبکہ 61 غیر ملکی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مقامات کی صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں، اور حکومت اس حوالے سے آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ قانونی کارروائی بھی جاری رکھے گی تاکہ شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
حکام کے مطابق، ملائیشیا میں عوامی صفائی کے قوانین کو حالیہ برسوں میں مزید سخت کیا گیا ہے تاکہ شہری علاقوں میں صفائی کا معیار بہتر بنایا جا سکے اور سیاحتی مقامات پر بھی مثبت تاثر قائم رکھا جا سکے۔ اس طرح کی سزائیں عوام کو خبردار کرنے کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
مزید برآں، حکام کا کہنا ہے کہ عیدالفطر جیسے تہواروں کے دوران عوامی مقامات پر رش بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث صفائی کے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں، لہٰذا ایسے قوانین پر سختی سے عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔

COMMENTS