کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کے غریب اور پسماندہ طبقات کے لیے انصاف تک رسائی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کے غریب اور پسماندہ طبقات کے لیے انصاف تک رسائی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، تاہم حکومت اس خلا کو ختم کرنے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے یہ بات کامن ویلتھ لیگل ایجوکیشن ایسوسی ایشن کی کانفرنس 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو یونیورسٹی آف ملایا میں منعقد ہوئی۔ وزیراعظم کے مطابق، قانون کی حکمرانی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ قوانین سب کے لیے یکساں ہوں اور ہر شہری کو ان تک برابر رسائی حاصل ہو۔
انور ابراہیم نے کہا، “ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ابھی بہت کام باقی ہے۔ ہمارا حتمی مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں ہر شہری کو انصاف تک مکمل رسائی حاصل ہو اور کوئی بھی شخص قانونی چارہ جوئی سے محروم نہ رہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے انصاف تک رسائی کو اپنی وسیع تر اصلاحاتی پالیسی کا مرکزی ستون قرار دیا ہے، جو “ملائیشیا مدانی” وژن کے تحت نافذ کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، یہ وژن ایک ایسے معاشرے کی تشکیل پر مبنی ہے جہاں قانون، اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کو یکجا کیا جائے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ قانون کو صرف ایک تکنیکی نظام کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسانی ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا اور قانونی ماہرین کو محض قانونی نکات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں اخلاقی رہنمائی فراہم کرنے والا کردار بھی ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا، “وکیل صرف تحقیق اور دستاویزات تیار کرنے والے ماہرین نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ انہیں اخلاقی بنیاد فراہم کرنی چاہیے تاکہ جو درست ہے وہ منصفانہ بھی ہو۔”
انور ابراہیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانونی نظام کو عام شہری کے لیے قابلِ رسائی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قانون کو پیچیدہ اور محدود رکھا گیا تو یہ عوام کے لیے ایک بند نظام بن جائے گا، جو انصاف کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانونی نظام روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور اسے عوامی مفاد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے انہوں نے موجودہ اور مستقبل کے قانونی ماہرین پر زور دیا کہ وہ عوام کی ضروریات کو سمجھیں اور ان کے مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کریں۔
ملائیشیا سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں انصاف تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں مالی وسائل، قانونی پیچیدگیوں اور آگاہی کی کمی کے باعث عام شہری اپنے حقوق کے تحفظ میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں حکومتی اصلاحات نہایت اہم سمجھی جا رہی ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت مختلف شعبوں میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے، جن میں معیشت، توانائی اور انتظامی نظام شامل ہیں۔ انصاف کے نظام میں بہتری کو بھی انہی اصلاحات کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

COMMENTS