پیتالنگ جایا: ملائیشیا کی میری ٹائم (سمندری) صنعت اس وقت ایک سنگین بحران کا سامنا کر رہی ہے جہاں مقامی سی فیررز کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے، ج...
پیتالنگ جایا: ملائیشیا کی میری ٹائم (سمندری) صنعت اس وقت ایک سنگین بحران کا سامنا کر رہی ہے جہاں مقامی سی فیررز کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے باعث ملک کو غیر ملکی افرادی قوت پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ نہ صرف مقامی ورک فورس کی ترقی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ طویل مدت میں ملائیشیا کی عالمی میری ٹائم حیثیت کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ بحران عالمی اور مقامی دونوں سطحوں پر پیدا ہونے والے عوامل کا نتیجہ ہے۔
سی فیئرر مینجمنٹ سینٹر کے میرین مینیجر کیپٹن سولاہ الدین نور نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں بھی اسی نوعیت کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں 26 ہزار سے زائد میرین آفیسرز کی کمی کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ملائیشیا میں مقامی سی فیررز کی لاگت دیگر ممالک جیسے انڈونیشیا، فلپائن اور بھارت کے کارکنوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے انہیں عالمی شپنگ مارکیٹ میں کم مواقع ملتے ہیں۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل میں سمندری پیشے کی کشش بھی کم ہو رہی ہے۔ طویل عرصے تک سمندر میں رہنا، اہل خانہ سے دوری اور ورک لائف بیلنس کے مسائل نوجوانوں کو اس شعبے سے دور کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس، بہت سے افراد مقامی آف شور ملازمتوں کو ترجیح دیتے ہیں جہاں کام کی مدت کم اور گھر سے قربت زیادہ ہوتی ہے۔
اس کمی کے اثرات اب صنعت میں واضح طور پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ موجودہ سی فیررز کو طویل اوقات کار، زیادہ دباؤ اور تھکن کا سامنا ہے، جس سے نہ صرف کارکردگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ حفاظتی خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
کیپٹن سولاہ الدین نور نے مزید کہا کہ “یہ صورتحال ہمیں غیر ملکی سی فیررز پر انحصار کرنے پر مجبور کر رہی ہے، حتیٰ کہ مقامی پانیوں میں چلنے والے جہازوں کے لیے بھی۔ اس کے براہ راست اثرات قومی مفادات اور ورک فورس ڈیولپمنٹ پر پڑ رہے ہیں۔”
دوسری جانب شپنگ کمپنیاں بھی تربیت یافتہ اور تجربہ کار افسران کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں آپریشنل تاخیر، اخراجات میں اضافہ اور عالمی معیار کی تعمیل میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
او ایم ٹی سینیجی کے سی ای او محمد حارث نے خبردار کیا کہ سینئر آفیسرز کی کمی خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ یہی افراد مستقبل میں ٹرینرز، ریگولیٹرز اور میری ٹائم مینیجرز بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اگر سینئر آفیسرز دستیاب نہ ہوں تو پوری میری ٹائم ایکوسسٹم متاثر ہوتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جونیئر آفیسرز پر زیادہ انحصار سے صنعت کمزور ہو سکتی ہے اور غیر ملکی ماہرین پر انحصار مزید بڑھ سکتا ہے۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی تجویز دی ہے۔ ان میں بہتر تنخواہیں، عملے کی فلاح و بہبود، اور جدید تربیتی پروگرامز شامل ہیں تاکہ مقامی افراد کو اس شعبے میں آنے اور ترقی کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
مزید برآں، میرین کیرئر ہب جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی متعارف کروائے جا رہے ہیں، جن کا مقصد مقامی ٹیلنٹ کو شپ اونرز سے جوڑنا اور ملازمت کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ملائیشیا کی عالمی میری ٹائم مارکیٹ میں پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے اور ملک کو طویل مدت میں معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

COMMENTS