ملائیشیا میں معاشی نظام کے ایک اہم مسئلے کے طور پر “مڈل مین” یا درمیانی کردار ادا کرنے والے افراد اور اداروں کو مسلسل تنقید کا سامنا ہے، جنہ...
ملائیشیا میں معاشی نظام کے ایک اہم مسئلے کے طور پر “مڈل مین” یا درمیانی کردار ادا کرنے والے افراد اور اداروں کو مسلسل تنقید کا سامنا ہے، جنہیں ماہرین “رینٹ سیکنگ” کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے بغیر کسی حقیقی قدر میں اضافہ کیے، پبلک پالیسی یا معاشی نظام کو استعمال کر کے منافع حاصل کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے اور عوام دونوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
حالیہ بحث کا مرکز ایک نیا مجوزہ ڈیجیٹل نظام “یونیورسل ریکروٹمنٹ ایڈوانس پلیٹ فارم” ہے، جسے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے متعارف کرانے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ نظام ایک نجی کمپنی بیسٹینیٹ کی جانب سے تیار کیا گیا ہے، جو پہلے ہی “فارن ورکر سینٹرل مینجمنٹ سسٹم” چلا رہی ہے۔ یہ موجودہ نظام ہر سال ملائیشیا آنے والے لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کے ڈیٹا اور پراسیسنگ کو سنبھالتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ایک نظام پہلے سے موجود ہے تو ایک نئے سسٹم کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف حکومتی اخراجات میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر ملکی مزدوروں کی بھرتی کے عمل پر بھی مزید مالی بوجھ پڑے گا۔ اس حوالے سے مختلف حلقوں نے شفافیت، اوپن ٹینڈر اور مسابقتی عمل پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا جب بیسٹینیٹ نے 10 اداروں، جن میں میڈیا تنظیمیں بھی شامل ہیں، کے خلاف ایک ارب رنگٹ کا مقدمہ دائر کیا۔ اگرچہ عدالت نے رپورٹنگ پر پابندی کی درخواست مسترد کر دی، تاہم اس نے اس پورے معاملے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا۔
ملائیشیا کے انسداد بدعنوانی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 2019 سے 2023 کے درمیان کرپشن، جس میں رینٹ سیکنگ ایک بڑا عنصر سمجھا جاتا ہے، سے ملک کو تقریباً 277 ارب رنگٹ کا نقصان ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نقصان کی بڑی وجہ غیر ضروری نجکاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، آؤٹ سورسنگ اور دیگر ایسے طریقے ہیں جن میں درمیانی افراد کو شامل کیا جاتا ہے۔
ماضی میں بھی انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبوں میں نجکاری کے ذریعے بڑے پیمانے پر منافع پیدا کیا گیا، جس سے بعض نجی گروپس کو فائدہ پہنچا جبکہ عوام کو اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ مثال کے طور پر، سڑکوں پر ٹول ٹیکس کا نفاذ اور بجلی کے نجی منصوبے ایسے اقدامات ہیں جنہیں ناقدین اسی رجحان کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
اس کے برعکس، کچھ سرکاری ادارے جیسے ایمپلائیز پروویڈنٹ فنڈ اور ان لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ بغیر کسی تیسرے فریق کے مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔ یہ ادارے لاکھوں افراد کا ڈیٹا سنبھالتے ہیں اور براہ راست خدمات فراہم کرتے ہیں، جس سے اخراجات کم اور کارکردگی بہتر رہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت براہ راست خدمات فراہم کرے اور درمیانی عناصر کو ختم کرے تو نہ صرف اخراجات میں کمی ممکن ہے بلکہ شفافیت اور کارکردگی میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔ تاہم، اس کے لیے مضبوط سیاسی عزم ضروری ہے، کیونکہ مڈل مین کلچر بعض اوقات سیاسی اور مالی مفادات سے بھی جڑا ہوتا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو ملائیشیا کو مستقبل میں بھی اسی طرح کے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے شعبوں میں جہاں بڑے پیمانے پر سرکاری اخراجات اور نجی شراکت داری شامل ہو۔

COMMENTS