ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کے لیے شروع کیا گیا “پروگرام ریپیٹریاسی مائگرن 2.0” 30 اپریل 2026 کو اختتام پذیر ہو جائے گا، جس کے بعد سخ...
ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کے لیے شروع کیا گیا “پروگرام ریپیٹریاسی مائگرن 2.0” 30 اپریل 2026 کو اختتام پذیر ہو جائے گا، جس کے بعد سخت قانونی کارروائی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ امیگریشن کی جانب سے جاری بیان میں تمام غیر قانونی تارکین وطن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پروگرام سے فوری فائدہ اٹھائیں، کیونکہ یہ اپنے آبائی ممالک واپس جانے کا آخری منظم اور قانونی موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد غیر قانونی قیام کو کم کرنا اور افراد کو بغیر کسی پیچیدگی کے واپسی کا موقع فراہم کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جو افراد مقررہ تاریخ سے پہلے خود کو پیش نہیں کریں گے، انہیں بعد ازاں سخت نفاذی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس میں گرفتاری، عدالت میں مقدمہ اور ملک بدری شامل ہو سکتی ہے، جو کہ موجودہ امیگریشن قوانین کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اس پروگرام کے تحت افراد کو سہولت فراہم کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ امیگریشن دفاتر میں براہ راست جا کر اپنی دستاویزی کارروائی مکمل کریں۔ اس کے بعد انہیں باقاعدہ طریقہ کار کے تحت ان کے ممالک واپس بھیجا جائے گا۔
پروگرام کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے حکومت ایک منظم اور انسانی بنیادوں پر حل فراہم کر رہی ہے، تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کو بغیر کسی پیچیدہ قانونی عمل کے ملک چھوڑنے کا موقع مل سکے۔ اس سے نہ صرف افراد کو آسانی ہوگی بلکہ ملکی سکیورٹی اور قانون کی عملداری کو بھی مضبوط بنایا جا سکے گا۔
مزید برآں، حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آخری وقت کا انتظار نہ کیا جائے، کیونکہ آخری دنوں میں رش بڑھنے کے باعث مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس لیے تمام متعلقہ افراد کو جلد از جلد اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ پروگرام امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت حکومت غیر قانونی امیگریشن کو کنٹرول کرنے اور قانونی نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

COMMENTS