ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام سے متعلق ایک نئی بحث سامنے آئی ہے، جہاں حکومتی اتحاد کے نو ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے مجوزہ پلیٹ ...
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام سے متعلق ایک نئی بحث سامنے آئی ہے، جہاں حکومتی اتحاد کے نو ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے مجوزہ پلیٹ فارم کے نفاذ کی مخالفت کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ اور آئندہ حکومتی سسٹمز کے ہوتے ہوئے نئے نظام کی ضرورت نہیں۔
ارکانِ پارلیمنٹ کے مشترکہ بیان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ نئے پلیٹ فارم متعارف کرانے کے بجائے پہلے سے منصوبہ بند نیشنل انٹیگریٹڈ امیگریشن سسٹم کو استعمال کرے، جو 2028 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے پر ایک ارب رنگٹ سے زائد لاگت آئے گی، اس لیے اسی کو مرکزی نظام کے طور پر اپنانا زیادہ مناسب ہوگا۔
یہ بیان اس خبر کے بعد سامنے آیا جس میں بتایا گیا تھا کہ وزارتِ انسانی وسائل نے یونیورسل ریکروٹمنٹ ایڈوانسڈ پلیٹ فارم کے نفاذ کی تجویز دی ہے۔ یہ سسٹم بیسٹینیٹ سندرن برہاد نے تیار کیا ہے، جو اس سے پہلے بھی غیر ملکی ورکرز کے لیے ایک نظام چلا رہی ہے۔
مذکورہ نظام خاص طور پر بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک سے آنے والے مزدوروں کی بھرتی کے عمل کو منظم کرتا ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ایک ہی نوعیت کے متعدد سسٹمز متعارف کرانے سے نظام پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
بیان میں شامل ارکان نے خبردار کیا کہ ایک ہی وقت میں متعدد سسٹمز کا استعمال نہ صرف انتظامی مسائل پیدا کرے گا بلکہ ایک نجی کمپنی کی اجارہ داری کو بھی طویل عرصے تک برقرار رکھ سکتا ہے۔
ارکان نے مزید کہا کہ حکومت پہلے ہی موجودہ فارین ورکرز سسٹم کے استعمال کے لیے 2031 تک پابند ہے، اس لیے نئے نظام کا نفاذ غیر ضروری پیچیدگی پیدا کرے گا۔ ان کے مطابق، “نیا سسٹم متعارف کرانے سے ایک نجی کمپنی کی اجارہ داری مزید طویل ہو سکتی ہے، جو پالیسی کے لحاظ سے مناسب نہیں۔”
مزید یہ کہ ارکانِ پارلیمنٹ نے ماضی کی کچھ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرانا نظام کئی سال تک بغیر باقاعدہ معاہدے کے چلتا رہا، اور اس میں کنٹرول سے متعلق کمزوریاں بھی سامنے آئیں، جن کے باعث غیر مجاز افراد کو درخواستوں کی منظوری دینے کا اختیار مل گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسائل نظام کی گورننس سے متعلق بنیادی خدشات کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی سلامتی اور غیر ملکی کارکنوں سے متعلق اہم حکومتی نظام کو مکمل طور پر نجی شراکت داری کے تحت نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے حساس معاملات میں حکومتی کنٹرول اور شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
پس منظر کے طور پر، ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی ایک اہم اقتصادی اور انتظامی مسئلہ ہے، جس میں مختلف ادارے اور نظام شامل ہوتے ہیں۔ اس شعبے میں شفافیت، کارکردگی اور سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً نئے اقدامات تجویز کیے جاتے رہے ہیں، تاہم ان پر سیاسی اور پالیسی سطح پر بحث جاری رہتی ہے۔
یہ معاملہ فی الحال پالیسی اور حکومتی سطح پر زیر غور ہے، اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید وضاحت یا فیصلہ سامنے آئے گا۔

COMMENTS