کوتا بھارو: ملائیشیا کے ریاست کیلانتن میں انسانی اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے محکمہ امیگریشن نے 13 غیر قانونی تارکین وط...
کوتا بھارو: ملائیشیا کے ریاست کیلانتن میں انسانی اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے محکمہ امیگریشن نے 13 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ تمام افراد میانمار سے تعلق رکھتے ہیں اور ہر ایک نے ملائیشیا داخل ہونے کے لیے 4,500 ملائیشین رنگٹ ادا کیے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ امیگریشن کیلانتن، نک اخترالحق نک عبد الرحمان نے بتایا کہ یہ کارروائی “اوپس سرکاپ” کے تحت کی گئی، جس کے دوران ایک خفیہ اطلاع پر صبح 9:30 بجے کمپونگ سموت آپی کے ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مارا گیا۔ کارروائی کے وقت تمام 13 افراد ایک کمرے میں انتہائی محدود جگہ پر موجود تھے، جن میں 10 مرد اور 3 خواتین شامل تھیں۔ ان کی عمریں 19 سے 36 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ “امیگریشن انفورسمنٹ یونٹ کی مسلسل نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کے نتیجے میں اس اسمگلنگ نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو بروقت ناکام بنایا گیا۔” حکام کے مطابق گرفتار افراد کے ہاتھوں پر سرخ رنگ کی ڈوری باندھی گئی تھی، جسے مبینہ طور پر اسمگلنگ نیٹ ورک کے کارندے شناخت کے لیے استعمال کرتے تھے تاکہ مختلف مراحل میں ان کی نقل و حمل آسان ہو سکے۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ان افراد کو گزشتہ رات ہمسایہ ملک سے کشتی کے ذریعے دریا کے راستے ملائیشیا میں داخل کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں گاڑیوں کے ذریعے موجودہ مقام تک پہنچایا گیا، جہاں سے انہیں مختلف شہروں، خاص طور پر ایپوہ میں ملازمت کے لیے منتقل کیا جانا تھا۔
نک اخترالحق نے بتایا کہ “تمام افراد نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے میانمار سے ملائیشیا تک کے سفر کے لیے فی کس 4,500 رنگٹ ادا کیے، جس میں سمندری اور زمینی دونوں راستوں کا انتظام شامل تھا۔” انہوں نے کہا کہ یہ رقم اسمگلنگ نیٹ ورک کے ایجنٹس کو ادا کی گئی، جو پورے سفر کو منظم کرتے ہیں۔
تمام گرفتار افراد کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی سیکشن 6(1)(سی) کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جو بغیر قانونی دستاویزات ملک میں داخل ہونے یا قیام کرنے سے متعلق ہے۔ انہیں مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے ریاستی امیگریشن دفتر منتقل کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اسمگلنگ نیٹ ورک کے دیگر ارکان کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ان راستوں اور طریقہ کار کی نشاندہی کی جا رہی ہے جن کے ذریعے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک میں داخل کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لائی گئی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران مختلف ریاستوں میں متعدد آپریشنز کیے گئے ہیں، جن کا مقصد انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی ملازمت اور سرحدی خلاف ورزیوں کو روکنا ہے۔
ماہرین کے مطابق، جنوب مشرقی ایشیا میں معاشی عدم استحکام اور بہتر روزگار کی تلاش افراد کو خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے، جس سے وہ اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس تناظر میں حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔
حکام نے مزید واضح کیا کہ انسانی اسمگلنگ ایک سنگین جرم ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایسے افراد جو غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ یا ملازمت فراہم کرتے ہیں، وہ بھی قانون کی گرفت میں آ سکتے ہیں۔

COMMENTS