ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک خصوصی آپریشن “اوپس ٹویو” کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کی اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر...
ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک خصوصی آپریشن “اوپس ٹویو” کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کی اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے 10 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں ایک سینئر امیگریشن افسر بھی شامل ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی ریاست کداح میں واقع امیگریشن، کسٹمز، قرنطینہ اور سکیورٹی کمپلیکس بکیت کایو ہتام میں کی گئی، جو ایک اہم سرحدی داخلی مقام ہے۔ یہ آپریشن تقریباً ایک ماہ کی خفیہ نگرانی اور معلومات کی بنیاد پر کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار افراد میں مقامی اور غیر ملکی شہری شامل ہیں، جنہیں مختلف کرداروں جیسے “ایجنٹ”، “ٹرانسپورٹر” اور “سہولت کار” کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ ایک تھائی شہری کو مرکزی ایجنٹ “ٹویو” کے طور پر بھی گرفتار کیا گیا، جو اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو منظم کرتا تھا۔
حکام نے بتایا کہ اس گروہ کا طریقہ کار منظم اور منصوبہ بندی کے تحت تھا۔ غیر ملکی شہریوں کو تھائی لینڈ کے راستے ملائیشیا میں داخل کیا جاتا تھا، جہاں ایک ٹرانسپورٹر ٹیکسی ڈرائیور کا روپ دھار کر انہیں سرحد پار کرواتا تھا۔ بعد ازاں، امیگریشن کے ایک سینئر افسر پر الزام ہے کہ وہ ان افراد کے پاسپورٹس پر منظوری کی مہر لگا دیتا تھا، حالانکہ وہ داخلے کے قانونی تقاضے پورے نہیں کرتے تھے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہر غیر قانونی تارک وطن سے تقریباً 1,000 رنگٹ وصول کیے جاتے تھے، جن میں سے 400 رنگٹ فی پاسپورٹ متعلقہ افسر کو بطور رشوت دیے جاتے تھے۔
حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک رواں سال کے آغاز سے سرگرم تھا اور اس کی وجہ سے قومی خزانے کو تقریباً 4.1 ملین رنگٹ کا نقصان پہنچا۔
کارروائی کے دوران متعدد اشیاء بھی ضبط کی گئیں، جن میں مختلف ممالک کے پاسپورٹس، امیگریشن سٹیمپس، موبائل فونز، نقد رقم اور گاڑیاں شامل ہیں۔ یہ تمام اشیاء مزید تحقیقات کے لیے ثبوت کے طور پر محفوظ کر لی گئی ہیں۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ ادارہ کسی بھی ایسے فرد کے خلاف سخت کارروائی کرے گا جو انسانی اسمگلنگ یا غیر قانونی نقل و حرکت میں ملوث ہو، چاہے وہ ادارے کے اندر سے ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی خودمختاری اور سکیورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن کے نیٹ ورکس اب بھی جدید طریقوں سے سرگرم ہیں، جن کے خلاف مسلسل انٹیلی جنس اور سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔

COMMENTS