کوالالمپور: ملائیشیا میں امیگریشن قوانین کے نفاذ کو مزید سخت کرتے ہوئے ایک بڑے پیمانے پر “اوپس پنتاو” آپریشن کے دوران 7,154 غیر ملکی شہریوں ...
کوالالمپور: ملائیشیا میں امیگریشن قوانین کے نفاذ کو مزید سخت کرتے ہوئے ایک بڑے پیمانے پر “اوپس پنتاو” آپریشن کے دوران 7,154 غیر ملکی شہریوں کی جانچ پڑتال کی گئی، جسے حالیہ عرصے کا ایک اہم اور وسیع آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، جباتن امیگریشن ملائیشیا (جے آئی ایم) نے 20 مارچ سے شروع ہونے والے اس آپریشن کے تحت ملک بھر کے 147 مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں، جو گزشتہ اتوار تک جاری رہیں۔ اس دوران مجموعی طور پر 223 امیگریشن افسران اور اہلکاروں نے حصہ لیا۔
حکام کے مطابق، اس آپریشن کا بنیادی مقصد غیر ملکی شہریوں کی دستاویزات کی تصدیق اور ان کے قانونی اسٹیٹس کا جائزہ لینا تھا، تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم یا کام کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکے۔
ادارے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ جن غیر ملکی شہریوں کی جانچ کی گئی، ان میں سب سے زیادہ تعداد بنگلہ دیشی شہریوں کی تھی، جو 3,354 رہی۔ اس کے علاوہ میانمار کے 782، انڈونیشیا کے 779، پاکستان کے 514، نیپال کے 478، بھارت کے 340، تھائی لینڈ کے 169، فلپائن کے 157، چین کے 121 اور برونائی کے 105 شہری شامل تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ: “یہ آپریشن محض ایک روٹین چیک نہیں بلکہ امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔”
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس آپریشن کے دوران سختی کے ساتھ ساتھ نرمی اور سماجی حساسیت کا بھی خیال رکھا گیا، کیونکہ یہ کارروائیاں تہواروں کے موسم میں کی گئیں۔ اسی لیے اہلکاروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مقامی روایات اور معاشرتی اقدار کا احترام کریں تاکہ عوام میں کسی قسم کی بے چینی پیدا نہ ہو۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ مختلف ریاستوں میں “اوپس ساپو”، “اوپس کتیپ” اور دیگر آپریشنز کے ذریعے ہزاروں غیر ملکیوں کی جانچ اور گرفتاری عمل میں لائی جا چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق، ملائیشیا کی معیشت میں غیر ملکی مزدوروں کا اہم کردار ہے، خاص طور پر تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں میں۔ تاہم، غیر قانونی امیگریشن اور جعلی دستاویزات کے استعمال کے باعث حکومت کو وقتاً فوقتاً ایسے سخت اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے آپریشنز جاری رکھے جائیں گے تاکہ ملک میں قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔
مزید برآں، عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے بارے میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔

COMMENTS