کوالالمپور: ملائیشیا کے معروف روایتی نائٹ مارکیٹس، جنہیں "پاسر مالم" کہا جاتا ہے، کے بارے میں ایک غیر ملکی خاتون کی ویڈیو سوشل میڈ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے معروف روایتی نائٹ مارکیٹس، جنہیں "پاسر مالم" کہا جاتا ہے، کے بارے میں ایک غیر ملکی خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مقامی افراد میں بھی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ بازار اب اپنی اصل ثقافت اور سادگی کھوتے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق نائیجیریا سے تعلق رکھنے والی 31 سالہ بزنس رائٹر اوون کلیئر نے ایک ویڈیو میں کہا کہ ملائیشیا کے پاسر مالم اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ ان کے مطابق، "ملائیشیا اپنی ثقافت کھو رہا ہے، پاسر مالم اب پاسر مالم جیسا محسوس نہیں ہوتا۔" انہوں نے نشاندہی کی کہ اب ان بازاروں میں روایتی کھانوں کی جگہ مہنگے اور جدید مغربی یا دیگر غیر ملکی کھانے لے رہے ہیں۔
یہ ویڈیو اب تک 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد بار دیکھی جا چکی ہے، جبکہ سینکڑوں صارفین نے اس پر تبصرے کرتے ہوئے اسی تشویش کا اظہار کیا۔ کئی افراد نے کہا کہ اب عام اور سستے کھانے جیسے "پسانگ گورنگ"، "کری پاپ"، "سیتے" اور "ناسی لیماک" کی جگہ مہنگے آئٹمز جیسے میچا ڈرنکس، کافی، چیز کیک اور شاورما نے لے لی ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ پہلے 3 رنگٹ میں ملنے والا کیلے کا پکوڑا اب چھوٹے حصوں میں مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ایک اور صارف نے کہا کہ "اب سادہ اور اصل ذائقہ ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے، ہر چیز پر چیز یا چاکلیٹ ڈال دی جاتی ہے۔"
اوون کلیئر نے بتایا کہ انہوں نے پہلی بار 2013 میں پاسر مالم کا دورہ کیا تھا، اور اس وقت ان بازاروں کی خاص بات ان کا روایتی اور گھریلو انداز تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر اسٹال کا اپنا الگ ذائقہ اور پہچان ہوتی تھی، اور لوگ نہ صرف خریداری بلکہ ایک دوسرے سے ملنے اور بات چیت کے لیے بھی یہاں آتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "پاسر مالم کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کا ماحول تھا، خوشگوار، سادہ اور ہر کسی کے لیے قابل برداشت قیمتوں پر دستیاب۔" تاہم اب یہ بازار زیادہ تر جدید اور مہنگے رجحانات کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس سے عام لوگوں کے لیے یہ تجربہ متاثر ہو رہا ہے۔
دوسری جانب، کچھ صارفین نے یہ بھی کہا کہ ملائیشیا کی بعض ریاستوں جیسے کداح، پرلس، ترنگانو اور کلنتان میں اب بھی پاسر مالم اپنی اصل روایت کے ساتھ موجود ہیں، جہاں مقامی کھانے اور ثقافت کو برقرار رکھا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، مہنگائی، بدلتے صارفین کے رجحانات اور سوشل میڈیا کے اثرات نے ان روایتی بازاروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے 10 برسوں میں بڑے شہروں میں پاسر مالم اپنی اصل شکل کھو سکتے ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف ثقافتی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس سے مقامی معیشت اور چھوٹے کاروباروں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جو ان بازاروں پر انحصار کرتے ہیں۔

COMMENTS