پینانگ: ملائیشیا کے صوبہ پینانگ میں پولیس نے غیر ملکی مزدوروں کو نشانہ بنانے والے ایک گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 11 مشتبہ افراد کو گرفت...
پینانگ: ملائیشیا کے صوبہ پینانگ میں پولیس نے غیر ملکی مزدوروں کو نشانہ بنانے والے ایک گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 11 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں دو خواتین بھی شامل ہیں اور تمام ملزمان کا تعلق انڈونیشیا سے بتایا گیا ہے۔
پینانگ کے پولیس چیف داتوک عزیزی اسماعیل کے مطابق یہ گرفتاریاں 9 اور 10 اپریل کو مختلف مقامات پر کی گئیں، جن میں پیراک کے علاقے کیمور اور سیبرانگ پرائی شامل ہیں۔ یہ کارروائیاں خفیہ نگرانی اور عوامی اطلاعات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد کی عمریں 22 سے 38 سال کے درمیان ہیں۔ کارروائی کے دوران حکام نے مختلف اشیاء بھی برآمد کیں، جن میں زیورات، مختلف برانڈز کے موبائل فونز اور 2,770 رنگٹ نقد رقم شامل ہے۔ یہ تمام اشیاء مبینہ طور پر متاثرہ افراد سے لوٹی گئی تھیں۔
مزید برآں، پولیس نے ملزمان کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کیا، جس میں چھریاں، بڑے چاقو (پرانگ) اور کیبل ٹائیز شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ گروہ وارداتوں کے دوران متاثرہ افراد کو باندھنے کے لیے کیبل ٹائیز کا استعمال کرتا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس گروہ کا طریقہ واردات مخصوص تھا۔ ملزمان تعمیراتی مقامات پر قائم مزدوروں کی رہائش گاہوں کو نشانہ بناتے، چہروں کو ڈھانپ کر اسلحے کے زور پر اندر داخل ہوتے اور مزدوروں کو قابو میں کر کے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیتے تھے۔ اس کے بعد نقد رقم، زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء لے کر فرار ہو جاتے تھے۔
ایک حالیہ واقعے میں سیبرانگ پرائی سلاتن کے علاقے میں ہونے والی ڈکیتی میں تقریباً 35,000 رنگٹ مالیت کا نقصان رپورٹ ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق اس واقعے سمیت مجموعی طور پر پانچ ڈکیتی کے مقدمات ان گرفتاریوں کے بعد حل ہو گئے ہیں، جن میں سیبرانگ پرائی اتارا، سیبرانگ پرائی تنغہ اور سیبرانگ پرائی سلاتن کے علاقے شامل ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار افراد میں سے صرف ایک ملزم کا امیگریشن سے متعلق سابقہ ریکارڈ موجود ہے، جبکہ دیگر کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ تمام ملزمان کے منشیات کے ٹیسٹ کیے گئے، جن کے نتائج منفی آئے ہیں۔
حکام کے مطابق تمام ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ پر لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف تعزیراتِ قانون کی دفعات 395 اور 397 کے تحت کارروائی جاری ہے۔ پولیس نے اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ مزید تحقیقات کے ذریعے گروہ کے دیگر ممکنہ ارکان یا روابط کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا میں غیر ملکی مزدوروں کی بڑی تعداد تعمیرات، فیکٹریوں اور دیگر شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ اس طرح کے جرائم کے واقعات کے پیش نظر پولیس نے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں مزدور اجتماعی رہائش اختیار کرتے ہیں۔

COMMENTS