پیتالنگ جایا: ملائیشیا پولیس نے غیر قانونی جوا سرگرمیوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 67 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جو مخ...
پیتالنگ جایا: ملائیشیا پولیس نے غیر قانونی جوا سرگرمیوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 67 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جو مختلف جوئے کے اڈوں سے وابستہ تھے۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی “اوپ دادو خاص” کے تحت کی گئی، جو یکم اپریل سے شروع ہو کر دو روز تک جاری رہی۔ اس دوران 13 مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، جہاں غیر قانونی جوئے کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض مراکز نے اپنے اصل مقصد کو چھپانے کے لیے ای اسپورٹس سینٹرز اور فیملی انٹرٹینمنٹ لائسنس کا سہارا لیا ہوا تھا۔
ایم کمار، جو رائل ملائشیا پولیس کے محکمہ تفتیشی جرائم (جے ایس جے) کے ڈائریکٹر ہیں، نے بتایا کہ سیلنگور میں 52 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 41 مرد اور 11 خواتین شامل ہیں۔ ان افراد کی عمریں 20 سے 75 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار شدگان میں 26 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جن کا تعلق انڈونیشیا، بنگلہ دیش، پاکستان اور میانمار سے ہے۔ پولیس کے مطابق یہ افراد مختلف کردار ادا کر رہے تھے، جن میں جوئے کے اڈوں کے منتظمین اور کھلاڑی دونوں شامل تھے۔
دوسری جانب صباح میں 15 مقامی افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 11 مرد اور 4 خواتین شامل ہیں۔ ان کی عمریں 20 سے 68 سال کے درمیان ہیں اور یہ افراد بھی جوئے کے مراکز میں سرگرم پائے گئے۔
پولیس حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کا طریقہ کار (موڈاس اوپرانڈی) نہایت منظم تھا، جہاں غیر قانونی جوئے کو قانونی کاروبار کی آڑ میں چلایا جا رہا تھا۔ اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی جیسے ٹیبلٹس، کمپیوٹرز اور سمیولیٹر مشینوں کا استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ سرگرمیوں کو خفیہ رکھا جا سکے۔
چھاپوں کے دوران پولیس نے بڑی مقدار میں سامان بھی برآمد کیا، جس میں ٹیلی ویژن سیٹس، ٹیبلٹس، کمپیوٹرز، سمیولیٹر مشینیں اور نقد رقم شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ تمام اشیاء تحقیقات کے لیے ضبط کر لی گئی ہیں۔
پولیس نے واضح کیا کہ غیر قانونی جوا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ اور جرائم میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے۔ اسی لیے ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
ملائیشیا میں حالیہ برسوں کے دوران غیر قانونی جوئے کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، کیونکہ یہ سرگرمیاں اکثر دیگر جرائم جیسے منی لانڈرنگ اور غیر قانونی نیٹ ورکس سے بھی جڑی ہوتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کو ختم کرنا ملکی سیکیورٹی اور معاشرتی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

COMMENTS