کوالالمپور: ملائیشیا میں ایک غیر سرکاری تنظیم بٹالین اناک مودا (بی اے ایم) نے غیر ملکی شہریوں کے لیے “ریکارڈ آف سول لا کمپلائنس” (آر پی یو ا...
کوالالمپور: ملائیشیا میں ایک غیر سرکاری تنظیم بٹالین اناک مودا (بی اے ایم) نے غیر ملکی شہریوں کے لیے “ریکارڈ آف سول لا کمپلائنس” (آر پی یو ایس) کے قیام کی تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد انہیں ملکی قوانین اور مقامی معاشرتی اقدار کا احترام سکھانا ہے۔
تنظیم کے شریک بانی اور سیکریٹری جنرل ایم جے راج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ نظام کسی بھی فرد کے مذہب، نسل یا طرزِ زندگی کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ صرف قانونی پابندیوں کی بنیاد پر ایک شفاف ریکارڈ رکھنے کے لیے ہوگا۔ ان کے مطابق، “یہ ایک ایسا طریقہ کار ہوگا جو دنیا کے دیگر ممالک میں موجود کریمنل ریکارڈ چیک سسٹم کی طرح کام کرے گا، خاص طور پر ورک پرمٹ کی منظوری کے دوران۔”
یہ تجویز حالیہ ایک متنازع واقعے کے بعد سامنے آئی، جس میں “کاک آیو” نامی ایک مقامی ناسی لیماک فروش اور ایک مبینہ غیر ملکی شہری کے درمیان پارکنگ کے مسئلے پر جھگڑا ہوا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے مطابق غیر ملکی شخص نے گاڑی کو طویل وقت تک روکے رکھا، جس کے باعث خاتون شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں۔
بی اے ایم کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض غیر ملکی شہری مقامی قوانین اور سماجی حساسیت کا احترام نہیں کرتے، جس کے باعث ایسے تنازعات جنم لیتے ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ آر پی یو ایس نظام کے ذریعے اس طرح کے رویوں کی نشاندہی اور نگرانی ممکن ہوگی۔
تجویز کردہ آر پی یو ایس سسٹم کے تحت خلاف ورزیوں کو تین درجات میں تقسیم کیا جائے گا: معمولی، درمیانی اور سنگین۔ تنظیم کے مطابق، معمولی خلاف ورزی پر صرف تحریری وارننگ دی جائے گی، درمیانی درجے کی خلاف ورزی پر ورک پرمٹ کی تجدید کے وقت اضافی شرائط عائد کی جائیں گی، جبکہ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں ورک پرمٹ منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، بی اے ایم نے “ملائیشیا سوک اینڈ کلچرل امیئرشن پروگرام” (ایم سی سی آئی) کے قیام کی بھی تجویز دی ہے، جو تمام غیر ملکیوں کے لیے لازمی تربیتی پروگرام ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت غیر ملکی شہریوں کو مقامی ثقافت، قوانین اور سماجی رویوں سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ معاشرے میں بہتر طور پر ضم ہو سکیں۔
تنظیم نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ غیر ملکیوں کی ملکیت میں کاروبار کا سال میں دو مرتبہ آڈٹ کیا جائے، جبکہ ہر دو سال بعد ان کے رویے اور قانونی پابندیوں کی جانچ کی جائے۔ اگر کوئی کاروبار اخلاقی یا قانونی معیار پر پورا نہ اترے تو اس کا لائسنس معطل یا منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، غیر ملکی شہریوں کے لیے کمیونٹی انگیجمنٹ کو بھی لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت انہیں کم از کم 20 گھنٹے مقامی سرگرمیوں جیسے صفائی مہم، کمیونٹی پروگرامز اور دیگر سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد مقامی معاشرے کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس طرح کی تجاویز نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتی ہیں بلکہ قانون کی پاسداری کو بھی یقینی بنا سکتی ہیں۔ تاہم، اس حوالے سے حکومتی سطح پر مزید مشاورت اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہوگا تاکہ کسی بھی قسم کے امتیاز یا غلط استعمال سے بچا جا سکے۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود ہے، جو معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ ایسے میں ان کے لیے واضح قوانین اور سماجی رہنمائی کا نظام متعارف کرانا ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

COMMENTS