کوالالمپور: ملائیشیا نے تقریباً دو سال بعد بنگلہ دیشی ورکرز کے لیے اپنی لیبر مارکیٹ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا...
کوالالمپور: ملائیشیا نے تقریباً دو سال بعد بنگلہ دیشی ورکرز کے لیے اپنی لیبر مارکیٹ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب 2024 میں بھرتیوں پر پابندی انسانی اسمگلنگ، استحصال اور غیر شفاف بھرتی نظام کے باعث عائد کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق جون 2024 میں اس وقت بھرتی کا عمل روک دیا گیا تھا جب بڑی تعداد میں ورکرز مقررہ وقت سے پہلے ملک میں داخل ہوئے، لیکن انہیں ملازمتیں فراہم نہیں کی جا سکیں۔ اس صورتحال نے نظام میں موجود کمزوریوں کو نمایاں کیا، جن میں مہنگے اخراجات، ایجنٹوں کا کردار اور مبینہ غیر قانونی نیٹ ورکس شامل تھے۔
9 اپریل کو وزیر انسانی وسائل داتوک سری آر رمانن نے پوتراجایا میں بنگلہ دیشی وفد سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے بھرتی کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ تاہم اس بار نئے قواعد و ضوابط بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ ماضی کے مسائل سے بچا جا سکے۔
حکام کے مطابق نئے نظام کے تحت مڈل مین (درمیانی ایجنٹس) کی تعداد کم کی جائے گی، جبکہ بھرتی کے اخراجات کارکنوں کے بجائے آجر (کمپنی) برداشت کریں گے۔ مزید یہ کہ صرف لائسنس یافتہ ایجنسیوں کو بھرتی کی اجازت ہوگی اور ایک جدید ڈیجیٹل یا اے آئی سسٹم کے ذریعے پورے عمل کی نگرانی کی جائے گی۔
دونوں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور استحصال جیسے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس حوالے سے مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا۔ بنگلہ دیشی حکام نے ان اصلاحات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
حکام کے مطابق اس بار بھرتی کا عمل مرحلہ وار ہوگا۔ دسمبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان تقریباً 800 ورکرز کو آزمائشی بنیاد پر تعمیراتی شعبے میں شامل کیا جا چکا ہے۔ اندازہ ہے کہ آئندہ ایک سال میں 30 ہزار سے 40 ہزار بنگلہ دیشی ورکرز کو ملازمت دی جا سکتی ہے، تاہم مکمل ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے وسط تک ملائیشیا میں 800,000 سے 900,000 کے درمیان بنگلہ دیشی ورکرز قانونی طور پر کام کر رہے تھے، جو ملک میں موجود غیر ملکی ورک فورس کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور زرعی شعبے میں کام کرتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماضی میں کچھ ورکرز کو دھوکہ دہی، زیادہ اخراجات اور استحصال کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود ملائیشیا میں بہتر آمدنی کے مواقع اب بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق کچھ ورکرز ماہانہ تقریباً 5,000 رنگٹ تک کما لیتے ہیں، جو بنگلہ دیش کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
وزیر انسانی وسائل نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ رکھا جائے گا تاکہ طے شدہ اصلاحات پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے اور بھرتی کا عمل شفاف انداز میں جاری رہے۔

COMMENTS