کوالالمپور: تقریباً دو سال کی پابندی کے بعد ملائیشیا نے بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے اپنی لیبر مارکیٹ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس با...
کوالالمپور: تقریباً دو سال کی پابندی کے بعد ملائیشیا نے بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے اپنی لیبر مارکیٹ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس بار بھرتی کا نظام پہلے سے مختلف اور اصلاحات پر مبنی ہوگا۔
حکام کے مطابق، نئے نظام کے تحت مڈل مین کے کردار کو ختم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو بھرتی کے عمل میں شامل کیا جائے گا، جبکہ بیرون ملک ملازمت کے تمام اخراجات آجر (کمپنیاں) خود برداشت کریں گے۔
یہ فیصلہ 9 اپریل کو پتراجایا میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں ملائیشیا کے وزیر انسانی وسائل وی سِواکمار رامنن، بنگلہ دیش کے وزیر برائے تارکین وطن فلاح و بیرون ملک روزگار عارف الحق چودھری، اور وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر مہدی امین شریک ہوئے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بھرتی کا عمل جلد از جلد شفاف اور قابلِ احتساب طریقے سے دوبارہ شروع کیا جائے۔
یاد رہے کہ جون 2024 میں ملائیشیا نے بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی کو معطل کر دیا تھا، جس کے بعد اب اس نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت صرف لائسنس یافتہ اور مجاز ایجنسیوں کو بھرتی کے عمل میں شامل ہونے کی اجازت ہوگی، جبکہ پورے نظام کی نگرانی جدید اے آئی سسٹم کے ذریعے کی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کی غیر ضروری مداخلت کو کم کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق، اس عمل کو مرحلہ وار شروع کیا جائے گا اور ابتدائی طور پر تعمیراتی شعبے میں تقریباً 800 کارکنوں کو پائلٹ بنیادوں پر بھرتی کیا جا چکا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت ملائیشیا میں تقریباً 8 لاکھ سے 9 لاکھ کے درمیان بنگلہ دیشی کارکن قانونی طور پر کام کر رہے ہیں، جو ملک کی کل غیر ملکی افرادی قوت کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہیں۔ صنعتی، تعمیراتی اور زرعی شعبوں میں طلب کے پیش نظر آئندہ ایک سال کے دوران مزید 30 ہزار سے 40 ہزار کارکنوں کی بھرتی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیر عارف الحق چودھری نے کوالالمپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تمام تجاویز شفاف طریقے سے ملائیشین حکام کے سامنے پیش کی ہیں تاکہ ماضی میں پیش آنے والے مسائل کو حل کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب ترجیح اس نئے نظام پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، جبکہ اس کی باقاعدہ نگرانی بھی کی جائے گی تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی نہ ہو۔
وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر مہدی امین نے بھی اس موقع پر کہا کہ حکومت بیرون ملک کام کرنے والے کارکنوں کے حقوق کے تحفظ، بہتر کام کے حالات اور سماجی وقار کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی کے مسائل فوری طور پر حل نہیں ہو سکتے، لیکن حکومت سنجیدگی سے اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔
ملائیشیا طویل عرصے سے بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے ایک اہم منزل رہا ہے، جہاں بہتر آمدنی اور کاروباری مواقع کی وجہ سے بڑی تعداد میں افراد کام کرتے ہیں، اگرچہ اس شعبے میں بعض خطرات اور چیلنجز بھی موجود رہے ہیں۔

COMMENTS