پُتراجایا: محکمہ امیگریشن ملائشیا نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام ریپیٹری ایسی مائگرین 2.0 کو باضابطہ طور پر مزید ایک سال کے لیے بڑھا دیا گیا ہے،...
پُتراجایا: محکمہ امیگریشن ملائشیا نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام ریپیٹری ایسی مائگرین 2.0 کو باضابطہ طور پر مزید ایک سال کے لیے بڑھا دیا گیا ہے، جو اب یکم مئی 2026 سے 31 مئی 2027 تک جاری رہے گا۔ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کو رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کا مزید موقع فراہم کرنا اور ملک میں امیگریشن نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل ذکریا شعبان کے مطابق، پروگرام کی توسیع اس کی مثبت کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت بڑی تعداد میں رجسٹریشن، مستقل بنیادوں پر رضاکارانہ واپسی، اور قابل ذکر مالی وصولی ریکارڈ کی گئی، جس نے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، 19 مئی 2025 سے 29 اپریل 2026 تک پی آر ایم 2.0 کے تحت 254,186 افراد نے رجسٹریشن کرائی، جو 112 مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی عرصے میں حکومت نے 127 ملین رنگٹ کی رقم بطور جرمانہ اور فیس وصول کی، جو اس پروگرام کی مؤثریت کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ پروگرام بنیادی طور پر ایک رضاکارانہ واپسی کا نظام ہے، جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی کارروائی سے جزوی رعایت دی جاتی ہے، بشرطیکہ وہ خود سامنے آئیں اور مقررہ شرائط پوری کریں۔ اس کے تحت داخلے یا قیام کے قوانین کی خلاف ورزی پر 500 رنگٹ جبکہ پاس کی شرائط توڑنے پر 300 رنگٹ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، وطن واپسی کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے ایک عارضی دستاویز (سپیشل پاس) کے اجرا پر 20 رنگٹ فیس بھی لی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق، اس پروگرام کا ایک اہم مقصد نہ صرف غیر قانونی افراد کی واپسی کو تیز کرنا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ کو کم کرنا اور وسائل کا بہتر استعمال بھی ہے۔ اس کے ذریعے حکومت امیگریشن مینجمنٹ کو زیادہ منظم اور مؤثر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ساتھ ہی، امیگریشن حکام نے واضح کیا ہے کہ رضاکارانہ پروگرام کے باوجود قانونی کارروائیوں میں کوئی نرمی نہیں کی جائے گی۔ محکمہ امیگریشن ملک بھر میں مربوط آپریشنز، انٹیلیجنس اور نگرانی کے ذریعے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ اس میں نہ صرف غیر قانونی تارکین وطن بلکہ ان کے آجر یا سہولت کار بھی شامل ہوں گے۔
ذکریا شعبان نے تمام غیر قانونی افراد کو اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس پروگرام سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی حیثیت کو قانونی بنائیں، بصورت دیگر انہیں گرفتاری، مقدمہ اور ملک بدری جیسے سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ طویل عرصے سے موجود ہے، جس کے حل کے لیے مختلف ادوار میں ریپٹری ایشن پروگرام متعارف کرائے گئے۔ پی آر ایم 2.0 انہی کوششوں کا تسلسل ہے، جس میں رضاکارانہ واپسی کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ قانونی پیچیدگیوں اور اخراجات کو کم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، اس طرح کے پروگرام نہ صرف امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو بہتر بناتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی امیج کو بھی بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر جب غیر ملکی مزدوروں کے معاملات شفاف اور منظم طریقے سے نمٹائے جائیں۔

COMMENTS