کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے آر ٹی ایس استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے سیزن پاس سبسڈی دینے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد رو...
کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے آر ٹی ایس استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے سیزن پاس سبسڈی دینے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد روزانہ سرحد پار سفر کرنے والوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ انتھونی لوک نے بتایا کہ اگر یہ سبسڈی اسکیم نافذ کی گئی تو یہ صرف ملائیشین شہریوں تک محدود ہوگی اور غیر ملکیوں کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس معاملے پر تفصیلی مشاورت کر رہی ہے تاکہ ایک مؤثر اور قابلِ عمل پالیسی تشکیل دی جا سکے۔
انہوں نے کہا، “جب ہم سیزن پاس سبسڈی کی بات کرتے ہیں تو اس کا اطلاق صرف ملائیشیا کے شہریوں پر ہوگا۔ ہم غیر ملکی شہریوں کو اس سہولت میں شامل نہیں کریں گے۔” ان کے مطابق یہ فیصلہ قومی مفاد اور حکومتی وسائل کے مؤثر استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔
انتھونی لوک نے مزید کہا کہ اسی طرح اگر سنگاپور بھی اپنے شہریوں کے لیے سبسڈی متعارف کرائے تو وہ بھی اسے صرف اپنے شہریوں تک محدود رکھے گا، جو ایک عام بین الاقوامی پریکٹس ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر آر ٹی ایس آپریشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ مزید تفصیلی بات چیت جاری ہے، جو اس سروس کا آپریٹر ہے۔ یہ بیان انہوں نے جوہر بہرو کے بُکِت چاگر اسٹیشن کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو میں دیا۔
وزیر کے مطابق ماضی کے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیزن پاس اسکیموں کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومتی سبسڈی یا مالی معاونت انتہائی اہم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح یہ سہولت شہریوں کو فراہم کی جا سکتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آر ٹی ایس لنک ایک مشترکہ منصوبہ ہے جو ملائیشیا کی پراسرانا ملائیشیا برہاد اور سنگاپور کی ایس ایم آر ٹی کارپوریشن کے درمیان قائم کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جوہر بہرو اور سنگاپور کے درمیان روزانہ سفر کو تیز، آسان اور زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق یہ ریلوے لنک تقریباً 4 کلومیٹر طویل ہو گا، جو جوہر بہرو کے بُکِت چاگر کو سنگاپور کے ووڈ لینڈز نارتھ سے جوڑے گا۔ جدید ٹرین سسٹم کے ذریعے دونوں اسٹیشنز کے درمیان سفر کا دورانیہ تقریباً 6 منٹ ہوگا۔
اس منصوبے کے تحت ٹرینیں زیادہ سے زیادہ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی اور ہر سمت میں فی گھنٹہ تقریباً 10,000 مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھیں گی، جس سے سرحدی ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
حکام کے مطابق آر ٹی ایس لنک منصوبہ خاص طور پر ان ملائیشین شہریوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا جو روزانہ ملازمت یا تعلیم کے لیے سنگاپور سفر کرتے ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سبسڈی اسکیم متعارف کرائی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال میں اضافہ ہوگا بلکہ شہریوں کے سفری اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی، جو موجودہ معاشی حالات میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

COMMENTS