ملائیشیا کے صوبہ صباح کے ساحلی ضلع سنداکن میں ایک بڑے آتشزدگی کے واقعے میں تقریباً ایک ہزار کچے مکانات تباہ ہوگئے جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہ...
ملائیشیا کے صوبہ صباح کے ساحلی ضلع سنداکن میں ایک بڑے آتشزدگی کے واقعے میں تقریباً ایک ہزار کچے مکانات تباہ ہوگئے جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔ یہ واقعہ اتوار کی علی الصبح پیش آیا جب آگ نے ایک گنجان آباد "واٹر ولیج" کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع رات تقریباً 1 بج کر 32 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ محکمہ فائر اینڈ ریسکیو کے افسران نے بتایا کہ تقریباً 37 اہلکاروں نے دو مختلف اسٹیشنز سے کارروائی میں حصہ لیا، تاہم محدود رسائی اور تنگ راستوں کے باعث آگ بجھانے میں مشکلات پیش آئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں اور گھروں کے ایک دوسرے کے قریب ہونے کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔ مزید یہ کہ کم جوار کی صورتحال کے باعث پانی تک رسائی مشکل ہوگئی، جس نے آگ پر قابو پانے کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
پولیس حکام کے مطابق اس واقعے سے تقریباً 9 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے، جو اس علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ متاثرہ علاقہ بنیادی طور پر لکڑی کے ستونوں پر تعمیر شدہ گھروں پر مشتمل ہے، جہاں کم آمدنی والے افراد، مقامی قبائل اور بغیر شہریت کے افراد کی بڑی تعداد رہتی ہے۔
محکمہ فائر بریگیڈ کے ابتدائی اندازوں کے مطابق آگ نے تقریباً 10 ایکڑ کے علاقے کو متاثر کیا۔ حکام نے بتایا کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم بڑی تعداد میں خاندان اپنا گھر بار کھو بیٹھے۔
ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا اور متاثرہ علاقے کو محفوظ قرار دیا۔ حکام کے مطابق اس وقت مزید کسی خطرے کی اطلاع نہیں ہے، تاہم متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبہ صباح کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور متاثرہ افراد کو فوری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح متاثرین کی حفاظت اور انہیں عارضی رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت متاثرین کی مدد کے لیے فوری بنیادوں پر کام کر رہی ہے تاکہ انہیں جلد از جلد محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ ساتھ ہی مقامی حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ریلیف آپریشن کو مؤثر بنائیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، تاہم حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے علاقوں میں جہاں مکانات لکڑی کے ہوں اور ایک دوسرے کے قریب ہوں، وہاں آگ لگنے کی صورت میں نقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

COMMENTS