پادانگ بیسار: عالمی توانائی بحران کے تناظر میں حکومتِ ملائیشیا نے سرحدی علاقوں میں ایندھن کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ت...
پادانگ بیسار: عالمی توانائی بحران کے تناظر میں حکومتِ ملائیشیا نے سرحدی علاقوں میں ایندھن کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت وزارت داخلہ کو پولیس کی تعیناتی کے ذریعے کنٹرول مضبوط بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر داخلہ سیف الدین ناسوشن نے سرحدی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ایندھن کی فراہمی کی نگرانی بنیادی طور پر وزارتِ تجارت کی ذمہ داری ہے، تاہم کابینہ کے حالیہ فیصلے کے بعد پولیس کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا ہے تاکہ اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ انہوں نے فضائی نگرانی کے ذریعے سرحدی علاقوں کا جائزہ لیا، جس میں دوریان بورونگ، بکیت کایو ہیتم اور پادانگ بیسار جیسے اہم مقامات شامل تھے۔ اس جائزے کے دوران ممکنہ اسمگلنگ روٹس، مشکوک نقل و حرکت اور زمینی عملے کو درپیش چیلنجز کا مشاہدہ کیا گیا۔
بعد ازاں انہوں نے پاسوکان جیرکان عام (پی جی اے) کے پوسٹ جالن کیسبان کا دورہ کیا، جہاں زمینی سطح پر جاری آپریشنز کا معائنہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق کچھ ایسے مقامات بھی دکھائے گئے جو ماضی میں اسمگلنگ کے لیے استعمال ہوتے تھے، تاہم اب وہاں صورتحال کو بہتر بنایا جا چکا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ملک میں ایندھن کی فراہمی تسلی بخش ہے، تاہم اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی نقل و حرکت یا “لیکج” نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں پولیس کی موجودگی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی جیوپولیٹیکل حالات کے پیش نظر حکومت سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھایا جا رہا ہے تاکہ قومی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کے مطابق، یہ اقدامات نہ صرف ایندھن کی اسمگلنگ روکنے میں مدد دیں گے بلکہ سرحدی علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بھی بہتر بنائیں گے۔

COMMENTS