پتراجایا: وزیرِ داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت پناہ گزینوں اور سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کے انتظام کو مزید مضبوط بنانے...
پتراجایا: وزیرِ داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت پناہ گزینوں اور سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کے انتظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات تیز کر رہی ہے تاکہ قومی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے پیر کے روز سیکیورٹی کلسٹر ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پناہ گزینوں سے متعلق مسائل تیزی سے پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، جس کے باعث ایک جامع اور منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، حکومت مختلف اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو فروغ دے رہی ہے تاکہ اس حساس معاملے کو مؤثر انداز میں سنبھالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ “اجلاس میں اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ کس طرح مختلف سرکاری ادارے مل کر کام کریں تاکہ نہ صرف پناہ گزینوں کے معاملات کو بہتر طریقے سے منظم کیا جا سکے بلکہ ملک کی سلامتی بھی برقرار رہے۔”
اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ یکم جنوری 2026 سے شروع ہونے والا “ریفیوجی رجسٹریشن ڈاکومنٹ (ڈی پی پی)” پروگرام ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے ذریعے حکومت کو پناہ گزینوں کے بارے میں زیادہ واضح اور مکمل ڈیٹا حاصل ہو رہا ہے۔ اس ڈیٹا کی مدد سے نگرانی، پالیسی سازی اور انتظامی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
سیف الدین ناسوشن اسماعیل کے مطابق، “یہ پروگرام ہمیں ایک منظم نظام کی طرف لے جا رہا ہے، جہاں ہر پناہ گزین کا ریکارڈ بہتر طریقے سے محفوظ ہوگا اور حکومتی اقدامات زیادہ شفاف اور مؤثر ہوں گے۔”
اجلاس میں نیشنل سیکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ ملائیشیا، وزارت ہاؤسنگ و لوکل گورنمنٹ ملائیشیا، جاکم اور شریعہ جوڈیشری ڈیپارٹمنٹ ملائیشیا سمیت دیگر اہم اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور کثیرالجہتی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے۔
ملائیشیا گزشتہ کئی برسوں سے خطے میں پناہ گزینوں کے لیے ایک اہم مقام رہا ہے، خاص طور پر میانمار سمیت مختلف ممالک سے آنے والے افراد یہاں پناہ لیتے رہے ہیں۔ تاہم بڑھتی ہوئی تعداد، وسائل پر دباؤ اور سیکیورٹی خدشات کے باعث حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی ایسے مسائل کے حل کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن ہوتی ہے بلکہ حقیقی پناہ گزینوں کو بھی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
وزیر داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اصلاحاتی اقدامات جاری رہیں گے تاکہ پناہ گزینوں کے معاملات کو زیادہ شفاف، کنٹرولڈ اور مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ اقدامات نہ صرف حکومتی نظام کو مضبوط کریں گے بلکہ تمام فریقین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔”

COMMENTS