پتراجایا: ملائشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک اب اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں روایتی اسمارٹ سٹی ماڈل سے آگے بڑھ کر "...
پتراجایا: ملائشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک اب اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں روایتی اسمارٹ سٹی ماڈل سے آگے بڑھ کر "اے آئی سٹی" (آرٹیفیشل انٹیلیجنس سٹی) کے تصور کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ تبدیلی صرف نئی ٹیکنالوجی کے استعمال تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے شہروں کی منصوبہ بندی، انتظام اور گورننس کے پورے نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی درکار ہوگی۔ ان کے مطابق مستقبل کے شہر زیادہ مؤثر، ڈیٹا پر مبنی اور پائیدار ہونے چاہئیں۔
یہ بات انہوں نے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کے بعد کہی، جس میں ملائیشیا کے لیے اے آئی سٹی ماڈل کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس نئے ماڈل کو کامیاب بنانے کے لیے ایک مضبوط اور مربوط نظام کی ضرورت ہوگی۔
وزیر اعظم کے مطابق اے آئی سٹی کے قیام کے لیے چند اہم عناصر ناگزیر ہیں، جن میں محفوظ اور مؤثر ڈیٹا گورننس، جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مقامی ٹیلنٹ کی ترقی، اور ایسے قوانین شامل ہیں جو ذمہ دارانہ جدت (انوویشن) کو فروغ دیں۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام عناصر کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانا ضروری ہے تاکہ اس منصوبے پر مؤثر طریقے سے عملدرآمد ممکن ہو سکے۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت کا باعث بنے گا بلکہ عوامی خدمات کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ منسٹری آف ڈیجیٹل ملائشیا اس منصوبے کی مرکزی رابطہ کار وزارت کے طور پر کام کرے گی اور دیگر متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت تمام متعلقہ فریقین کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ اس منصوبے کے فوائد براہ راست عوام تک پہنچ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی سٹی ماڈل ملک کو ایک جدید اور ڈیجیٹل معیشت کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں شہروں کو زیادہ اسمارٹ اور ڈیجیٹل بنانے کے رجحان میں تیزی آ رہی ہے، اور مختلف ممالک اپنی شہری ترقی میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

COMMENTS