پیتالنگ جایا: ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے عالمی توانائی بحران کے پیش نظر 15 اپریل سے سرکاری شعبے...
پیتالنگ جایا: ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے عالمی توانائی بحران کے پیش نظر 15 اپریل سے سرکاری شعبے میں “ورک فرام ہوم” پالیسی نافذ کی جائے گی، جس کا اطلاق مختلف وزارتوں، سرکاری اداروں، قانونی باڈیز اور سرکاری کمپنیوں پر بھی ہوگا۔
وزیراعظم نے ایک خصوصی ٹی وی خطاب میں کہا کہ یہ اقدام ایندھن کے استعمال کو کم کرنے اور توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت اس پالیسی کے ذریعے عوامی خدمات کو متاثر کیے بغیر توانائی کے وسائل کو بہتر انداز میں منظم کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا، “اس فیصلے کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی، تاہم اس کا بنیادی مقصد فیول کنزمپشن کو کم کرنا اور ملک میں توانائی کی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔”
وزیراعظم نے عالمی تناظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ بحران وقتی نہیں بلکہ طویل المدتی اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا، “صورتحال بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب ہو سکتی ہے اور اس کی بحالی میں کافی وقت لگے گا، اس لیے ہمیں روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔”
حکومت نے اس بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے “انیشی ایٹو سوکونگن راکیت” کے تحت مختلف اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں ٹارگٹڈ سبسڈیز اور متاثرہ طبقات کے لیے مالی معاونت شامل ہے۔ وزیراعظم کے مطابق، ملائیشیا اب تک رون 95 پیٹرول کی قیمت 1.99 رنگٹ فی لیٹر برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ کچھ ہمسایہ ممالک میں پیٹرول کی قلت اور لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس استحکام پر مطمئن ہونے کے بجائے مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے اس سال عیدالفطر کی تقریبات کو بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ اخراجات کم کیے جا سکیں۔
مزید برآں، “بودی95” پروگرام جاری رکھا جائے گا، تاہم اس کے تحت فی فرد ماہانہ کوٹہ کم کر کے 200 لیٹر کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت توانائی کے متبادل ذرائع پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ ملک کو ایک مستحکم اور محفوظ توانائی نظام فراہم کیا جا سکے۔
قومی آئل کمپنی پیٹروناس نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کم از کم مئی تک تیل اور گیس کی مناسب فراہمی برقرار رکھ سکتی ہے، جس سے ملائیشیا کو اس بحران میں نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل ہے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملائیشین کمیونیکیشن اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن نے ایندھن اور بجلی سے متعلق 96 جعلی پوسٹس کی نشاندہی کی ہے، جن کے خلاف پولیس کے ساتھ مل کر کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بحران کے دوران جھوٹی خبریں پھیلانا “ملک اور عوام کے ساتھ غداری” کے مترادف ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں۔
وزیراعظم نے معاشرے کے خوشحال طبقے کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس مشکل وقت میں سادگی اور ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ضروری نمود و نمائش عوامی ردعمل کو مزید منفی بنا سکتی ہے، خاص طور پر جب مزدور، کسان اور ماہی گیر معاشی دباؤ کا شکار ہوں۔
ماہرین کے مطابق، ورک فرام ہوم پالیسی نہ صرف ایندھن کے استعمال میں کمی کا باعث بنے گی بلکہ شہری ٹریفک میں کمی، ماحولیاتی بہتری اور توانائی کے مؤثر استعمال میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، اس کے نفاذ میں مختلف شعبوں کے لیے الگ حکمت عملی اپنانا ضروری ہوگا۔

COMMENTS