کوالالمپور: ملائیشیا کی غیر ملکی ورکر مینجمنٹ کمپنی مین فورس گروپ برہاد نے ملک میں جاری لیبر کی کمی کے پیش نظر اپنے زیرِ انتظام افرادی قوت ک...
کوالالمپور: ملائیشیا کی غیر ملکی ورکر مینجمنٹ کمپنی مین فورس گروپ برہاد نے ملک میں جاری لیبر کی کمی کے پیش نظر اپنے زیرِ انتظام افرادی قوت کو دوگنا کرنے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق بڑھتی ہوئی طلب اور سست رفتار لیبر سپلائی اس فیصلے کی بنیادی وجہ ہیں۔
کمپنی کے فنانس ڈائریکٹر چن کوک وینگ نے پراسپیکٹس لانچ کے موقع پر بتایا کہ مین فورس اس وقت تقریباً 6,000 غیر ملکی کارکنوں کو مینج کر رہی ہے، جن میں زیادہ تر سروس سیکٹر سے وابستہ ہیں، جبکہ باقی کارکن مینوفیکچرنگ اور کنسٹرکشن شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی 5,000 نئے کوٹے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ مینول لیبر کوٹے میں مزید 1,000 افراد شامل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر 6,000 نئے کارکنوں کے اضافے سے کمپنی اپنی موجودہ استعداد کو تقریباً دوگنا کر سکتی ہے۔
چن کے مطابق کمپنی ابھی بھی ایک بڑی مارکیٹ میں چھوٹا حصہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا میں تقریباً 21 لاکھ غیر ملکی کارکن موجود ہیں، جبکہ مین فورس کا حصہ صرف 0.3 فیصد بنتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل میں مزید ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
کمپنی نے اے سی ای مارکیٹ میں لسٹنگ کے لیے اپنے شیئرز کی قیمت 38 سین فی شیئر مقرر کی ہے، جس کے ذریعے تقریباً 30.4 ملین رنگٹ جمع کرنے کا ہدف ہے۔ حاصل ہونے والی رقم میں سے 14.74 ملین رنگٹ نئی بھرتیوں کے کوٹے بڑھانے کے لیے مختص کیے جائیں گے، جبکہ باقی فنڈز آئی ٹی اپ گریڈ، آپریشنل بہتری، ورکنگ کیپیٹل اور لسٹنگ اخراجات پر خرچ کیے جائیں گے۔
کمپنی کے سیلز ہیڈ وونگ چن این کے مطابق مین فورس حکومت کی پالیسی کے مطابق مزید کوٹہ حاصل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے خصوصی درخواست ونڈو، جس کی آخری تاریخ پہلے 31 مارچ مقرر تھی، اب ختم کر دی گئی ہے، جس سے مزید درخواستوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی خود کو "ون اسٹاپ سلوشن" فراہم کرنے والی کمپنی کے طور پر پیش کرتی ہے، جہاں رہائش، ورکر ویلفیئر، پرمٹ کی تجدید، تنخواہوں کا انتظام اور انشورنس جیسی سہولیات ایک ہی جگہ فراہم کی جاتی ہیں۔
وونگ کے مطابق عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود کمپنی کی طلب میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ آجر اب بھی لیبر کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ غیر ملکی کارکنوں کی آمد میں تاخیر ہے۔
ماہرین کے مطابق ملائیشیا میں مختلف صنعتیں خاص طور پر تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر طویل عرصے سے غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کر رہی ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں پالیسی تبدیلیوں اور عالمی حالات کے باعث لیبر سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس سے مارکیٹ میں خلا پیدا ہوا ہے۔
کمپنی کا یہ منصوبہ اسی خلا کو پورا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے مزید توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے۔

COMMENTS