شاہ عالم: ملائیشیا کے شہر شاہ عالم میں امیگریشن حکام نے مساج سینٹرز کی آڑ میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 11 غیر ملکی خوا...
شاہ عالم: ملائیشیا کے شہر شاہ عالم میں امیگریشن حکام نے مساج سینٹرز کی آڑ میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 11 غیر ملکی خواتین کو حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی جمعرات کی رات کی گئی۔
محکمہ امیگریشن سیلانگور کے مطابق "اوپ گیگار" کے نام سے یہ آپریشن رات 8 بجے شروع ہوا، جس میں بکِت ریماؤ کے علاقے میں قائم چند مساج مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ مراکز سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے اپنی سروسز کی تشہیر کرتے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان مراکز میں مساج کے نام پر دیگر غیر قانونی خدمات بھی فراہم کی جا رہی تھیں۔ مساج پیکجز کی قیمت تقریباً 40 رنگٹ سے شروع ہوتی تھی، جبکہ دیگر خدمات کے لیے 200 رنگٹ تک وصول کیے جاتے تھے۔
تحقیقات کے مطابق گاہکوں کو پہلے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کے ذریعے خواتین کی تصاویر بھیجی جاتی تھیں، جس کے بعد وہ اپنی پسند کا انتخاب کرتے تھے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے گاہکوں کو راغب کیا جاتا تھا۔
گرفتار ہونے والی خواتین میں میانمار، تھائی لینڈ، چین اور ویتنام کی شہری شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چار خواتین میانمار، چار تھائی لینڈ، دو چین اور ایک ویتنام سے تعلق رکھتی ہیں۔
سیلانگور کے امیگریشن ڈائریکٹر خیررول امینس کمارالدین نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف مختلف امیگریشن خلاف ورزیاں پائی گئیں، جن میں شناختی دستاویزات کا نہ ہونا اور مقررہ مدت سے زائد قیام شامل ہے۔
ایک ویتنامی خاتون، جو ان مراکز میں کام کر رہی تھی، نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے ملائیشیا میں موجود ہے اور یہ اس کی پہلی ملازمت تھی۔ اس کے مطابق اسے روزانہ 50 سے 100 رنگٹ تک آمدنی ہوتی تھی اور اسے اس نوعیت کی سرگرمیوں کے قوانین کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں تھی۔
حکام کے مطابق تمام گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے سیمینیہ امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور متعلقہ قواعد کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
محکمہ امیگریشن نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں اور ویزا کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

COMMENTS