کوالالمپور: جدید دور میں جہاں معاشرتی رویے تیزی سے بدل رہے ہیں، وہیں غیر محرم مردوں کے سامنے مسلم خواتین کے آداب کا موضوع دوبارہ توجہ حاصل ک...
کوالالمپور: جدید دور میں جہاں معاشرتی رویے تیزی سے بدل رہے ہیں، وہیں غیر محرم مردوں کے سامنے مسلم خواتین کے آداب کا موضوع دوبارہ توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، وہ اقدار جو ماضی میں بڑی احتیاط سے اپنائی جاتی تھیں، اب آہستہ آہستہ نظر انداز ہوتی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک پبلشر کی جانب سے کی گئی شیئرنگ میں اس مسئلے کو تربیتی نقطہ نظر سے پیش کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ خواتین کا بے تکلف انداز، بلند آواز میں گفتگو یا بے جا ہنسی مذاق اب معاشرے میں معمول بنتا جا رہا ہے، حالانکہ اسلامی تعلیمات اس حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلام خواتین کو عزت و وقار دیتا ہے، مگر اس کے ساتھ کچھ حدود بھی مقرر کرتا ہے تاکہ ان کی حفاظت اور احترام برقرار رہے۔ انہی اصولوں کے تحت خواتین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی آواز میں نرمی اور اعتدال رکھیں اور ایسے انداز سے گریز کریں جو غیر ضروری توجہ کا باعث بنے۔
اسی طرح ہنسی مذاق اور جسمانی حرکات میں بھی اعتدال اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ حیا اور وقار برقرار رہے۔ اس حوالے سے “عفت” کو بنیادی قدر قرار دیا گیا ہے جو ایک مسلمان عورت کی شخصیت کا اہم حصہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ ذمہ داری صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مردوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ خاص طور پر شوہر اور والد کو چاہیے کہ وہ حکمت اور نرمی کے ساتھ رہنمائی کریں اور اگر کوئی نامناسب رویہ نظر آئے تو اس کی اصلاح کریں۔
رپورٹ میں “غیرت” کو ایک مثبت صفت کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس کے تحت مرد اپنے اہل خانہ کی عزت اور وقار کے تحفظ کے لیے حساس ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، اس ذمہ داری سے غفلت کو منفی رویہ قرار دیا گیا ہے۔
مزید کہا گیا کہ بیٹیوں کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے، اور ان کی رہنمائی کرنا پابندی نہیں بلکہ ایک حفاظتی اقدام ہے تاکہ خاندان کی عزت اور سماجی اقدار برقرار رہیں۔
اس بات پر زور دیا گیا کہ آداب کی پابندی کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بلکہ ایک تحفظ ہے جو خواتین کی شخصیت اور عزت کو مضبوط بناتا ہے، اور یہ اصول ہر دور میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔

COMMENTS